دُوسرؔ ی بات ناظرین کی توجہ کے لائق یہ ہے کہ اِن مولویوں نے بات بات میں حضرت عیسیٰ کو بڑھایا اور ہمارے سیّد و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی۔ غضب کی بات ہے کہ اِن کا عقیدہ حضرت مسیح کی نسبت تو یہ ہو کہ کبھی روح القدس اُن سے جدا نہیں ہوتا تھا اور مسِ شیطان سے وہ بری تھے اور یہ دونوں باتیں انہیں کی خصوصیت تھی لیکن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اِن کا یہ اعتقاد ہو کہ نہ روح القدس ہمیشہ اور ہر وقت اُن کے پاس رہا اور نہ وہ نعوذ باللہ نقلِ کفر کفر نباشد مسِ شیطان سے بری تھے۔ باوجود اِن باتوں کے یہ لوگ مسلمان کہلاویں اِن کی نظر میں ہمارے سیّد ومولیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ُ مردہ مگر حضرت عیسیٰ اب تک زندہ۔ اور عیسیٰ ؑ کے لئے رُوح القدس دائمی رفیق مگر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ اس نعمت سے بے بہرہ اور حضرت عیسیٰ مسِ شیطان سے محفوظ مگر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم محفوظ نہیں اوّل المومنین ہوں۔ ان الہامات کے بعد کئی طور کے نشان ظاہر ہونے شروع ہوئے چنانچہ منجملہ ان کے ایک یہ کہ ۲۸؍نومبر ۱۸۸۵ ؁ء کی رات کو یعنی اس رات کو جو ۲۸؍نومبر ۱۸۸۵ ؁ء کے دن سے پہلے آئی ہے اِس قدرت شہب کا تماشا آسمان پر تھا جو مَیں نے اپنی تمام عمر میں اس کی نظیر کبھی نہیں دیکھی اور آسمان کی فضا میں اس قدر ہزارہا شعلے ہرطرف چل رہے تھے جو اس رنگ کا دنیا میں کوئی بھی نمونہ نہیں تا مَیں اس کو بیان کر سکوں مجھ کو یاد ہے کہ اُس وقت یہ الہام بکثرت ہوا تھا کہ ما رمیت اذ رمیت ولٰکن اللّٰہ رمٰی۔ سو اُس رمی کو رمی شہب سے بہت مناسبت تھی۔ یہ شہب ثاقبہ کا تماشہ جو ۲۸؍نومبر ۱۸۸۵ ؁ء کی رات کو ایسا وسیع طور پر ہوا جو یورپ اور امریکہ اور ایشیا کے عام اخباروں میں بڑی حیرت کے ساتھ چھپ گیا لوگ خیال کرتے ہوں گے کہ یہ بے فائدہ تھا۔ لیکن خداوند کریم حال کے مولوی جس طور سے آنحضرت صلعم کی توہین کر رہے ہیں اس طور اور طریق کا بیان۔ ۲۸؍ نومبر ۱۸۸۵ء ؁ کی کثرت شہب کا حال