قرینؔ مصلحت سمجھا ہے تب وہ سب اُس کے ہم کلام ہو جاتے ہیں۔ پھر جبرائیل اس وحی کو اس جگہ پہنچا دیتا ہے جس جگہ پہنچانے کے لئے اُس کو حکم تھا خواہ آسمان یا زمین۔
اب اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نزول وحی کے وقت جبرائیل آسمان پر ہی ہوتا ہے اور پھر جیسا کہ خداتعالیٰ نے اُس کی آواز میں قوت اور قدرت بخشی ہے اپنے محل میں اُس وحی کو پہنچا دیتا ہے۔ اِس صورت میں یہ عقیدہ رکھنا کہ گویا جبرائیل اپنے اصلی وجود کے ساتھ آسمانوں سے ہجرت کر کے حضرت عیسیٰ کے پاس آ گیا تھا اور تینتیس برس برابر اُن کے پاس رہا اور وہ تمام خدمات جو آسمانوں پر اُس کے سپرد تھیں جن کا ہم ابھی ذکرکر چکے ہیں وہ تینتیس برس تک معرض التوا میں رہیں کیسا باطل عقیدہ ہے جس سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ وحی بغیر توسط جبرائیل کے خود بخود زمین پر نازل ہوتی تھی اور زمین پر ہی وہ وحی جبرائیل کو مِل جاتی تھی۔
حکایت
مجھ کو یاد ہے کہ ابتدائے وقت میں جب مَیں مامور کیا گیا تو مجھے یہ الہام ہوا کہ جو براہین کے صفحہ ۲۳۸ میں مندرج ہے یا احمد بارک اللہ فیک ما رمیت اذ رمیت ولٰکن اللّٰہ رمٰی۔ الرحمٰن علّم القرآن۔ لتنذر قومًا ما انذر آباء ھم و لتستبین سبیل المجرمین۔ قُل انی امرت و انا اوّل المؤمنین۔ یعنی اے احمد خدا نے تجھ میں برکت رکھ دی اور جو تو نے چلایا یہ تُو نے نہیں چلایا بلکہ خدا نے چلایا اُس نے تجھے علم قرآن کا دیا تا تُو ان کو ڈراوے جن کے باپ دادے نہیں ڈرائے گئے۔ اور تا مجرموں کی راہ کُھل جائے یعنی سعید لوگ الگ ہو جائیں اور شرارت پیشہ اور سرکش آدمی الگ ہو جائیں اور لوگوں کو کہہ دے کہ مَیں مامور ہو کر آیا ہوں اور مَیں
اس عقیدہ کے بطلان کا بیان کہ جبرائیل نے اپنے اصلی وجود کے ساتھ آسمانوں کو چھوڑ کر حضرت مسیح کے پاس ہر وقت رہائش اختیار کر لی تھی۔
اپنی سرگذشت کی نسبت ایک حکایت