کیؔ اُس پر ہوتی ہے تب اُس محجوب المفہوم کلام سے ایک لرزہ آسمانوں پر پڑ جاتا ہے۔ جس سے وہ ہولناک کلام تمام آسمانوں میں پھر جاتا ہے اور کوئی نہیں سمجھتا کہ اِس کے کیا معنی ہیں اور خوفِ الٰہی سے ہر یک فرشتہ کانپنے لگتا ہے کہ خدا جانے کیا ہونے والا ہے اور اُس ہولناک آواز کو سن کر ہر یک فرشتہ پر غشی طاری ہو جاتی ہے اور وہ سجدہ میں گر جاتے ہیں ۔ پھر سب سے پہلے جبرائیل علیہ الصّلوٰۃ والسّلام سجدہ سے سر اٹھاتا ہے اور خداتعالیٰ اِس وحی کی تمام تفصیلات اُس کو سمجھا دیتا ہے اور اپنی مراد اور منشاء سے مطلع کر دیتا ہے تب جبرائیل اُس وحی کو لے کر تمام فرشتوں کے پاس جاتا ہے جو مختلف آسمانوں میں ہیں اور ہر یک فرشتہ اُس سے پوچھتا ہے کہ یہ آواز ہولناک کیسی تھی اور اِس سے کیا مراد تھی تب جبرائیل اُن کو یہ جواب دیتا ہے کہ یہ ایک امر حق ہے اور خداتعالیٰ بلنداور نہایت بزرگ ہے یعنی یہ وحی اُن حقائق میں سے ہے جن کا ظاہر کرنا اُس اَلْعَلِیُّ الْکَبِیْر نے چند سال پہلے ظہور میں آ جاتے ہیں اور کبھی عین ظہور کے وقت جلوہ نما ہوتے ہیں اور کبھی اُس کی کسی اعلیٰ فتحیابی کے وقت یہ خوشی کی روشنی آسمان پر ہوتی ہے۔ ابنِ کثیر نے اپنی تفسیر میں سدی سے روایت کی ہے کہ شہب کا کثرت سے گرنا کسی نبی کے آنے پر دلالت کرتا ہے یا دین کے غلبہ کی بشارت دیتا ہے مگر جوکچھ اشارات نص قرآن کریم سے سمجھا جاتا ہے وہ ایک مفہوم عام ہے جس سے صاف اور صریح طور پر مستنبط ہوتا ہے کہ جب کوئی نبی یا وارث نبی زمین پر مامور ہو کر آوے یا آنے پر ہو یا اُس کے ارہاصات ظاہر ہونے والے ہوں یا کوئی بڑی فتحیابی قریب الوقوع ہو تو ان تمام صورتوں میں ایسے ایسے آثار آسمان پر ظاہر ہوتے ہیں اور اِس سے انکار کرنا نادانی ہے کیونکہ عدم علم سے عدم شے لازم نہیں آتا۔ بعض مصلح اور مجدّد دین دنیا میں ایسے آتے ہیں کہ عام طور پر دُنیا کو اُن کی بھی خبر نہیں ہوتی۔ وحی کس طور سے پیدا ہوتی ہے اور پھر کیونکر انبیاء پر نازل ہوتی ہے قرآن کریم سے شہب کی نسبت کیا مستنبط ہوتا ہے