صلیؔ اللّٰہ علیہ وسلم اذا اراد اللّٰہ تبارک و تعالٰی اَن یوحی بامرہ تکلّم بالوحی فاذا تکلم اخذت السمٰوات منہ رجفۃ او قال رعدۃ شدیدۃ من خوف اللّٰہ تعالٰی فاذا سمع بذٰلک اھل السمٰوات صعقوا و خروا للّٰہ سجّدا فیکون اوّل من یرفع راسہ جبرائیل علیہ الصلٰوۃ والسّلام فکلمہ اللّٰہ من وحیہ بما اراد فیمضی بہ جبرائیل علیہ الصّلٰوۃ والسّلام علی الملائکۃ کلھا من سماءٍ الٰی سماءٍ یسئلہ ملا ئکتہا ماذا قال ربنا یا جبرئیل فیقول علیہ السلام قال الحق و ھو العلی الکبیر فیقولون کلہم مثل ما قال جبرائیل فینتہی جبرائیل بالوحي الٰی حیث امرہ اللّٰہ تعالٰی من السّماء والارض۔ یعنی نواس بن سمعان سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جس وقت خداتعالیٰ ارادہ فرماتا ہے کہ وہ کوئی امر وحی اپنی طرف سے نازل کرے تو بطور وحی متکلّم ہوتا ہے یعنی ایسا کلام کرتا ہے جو ابھی اجمال پر مشتمل ہوتا ہے اور ایک چادر پوشیدگی کہ کوئی نبی اور ملہم من اللہ پیدا ہوتا ہے اور عرب کے لوگ کاہنوں کے ایسے تابع تھے جیسا کہ ایک مرید مرشد کا تابع ہوتا ہے اِس لئے خداتعالیٰ نے وہی بدیہی امر اُن کے سامنے قسم کے پیرایہ میں پیش کیا تا اُن کو اِس سچائی کی طرف توجہ پیدا ہو کہ یہ کاروبار خداتعالیٰ کی طرف سے ہے انسان کا ساختہ پرداختہ نہیں۔ اگر یہ سوال پیش ہو کہ شہب کا گرنا اگر کسی نبی یا ملہم یا محدّث کے مبعوث ہونے پر دلیل ہے تو پھر کیا وجہ کہ اکثر ہمیشہ شہب گرتے ہیں مگر اُن کے گرنے سے کوئی نبی یا محدّث دنیا میں نزول فرما نہیں ہوتا تو اس کا جواب یہ ہے کہ حکم کثرت پر ہے اور کچھ شک نہیں کہ جس زمانہ میں یہ واقعات کثرت سے ہوں اور خارق عادت طور پر اُن کی کثرت پائی جائے تو کوئی مرد خدا دنیا میں خداتعالیٰ کی طرف سے اصلاح خلق اللہ کے لئے آتا ہے کبھی یہ واقعات ارہاص کے طور پر اُس کے وجود سے وحی انبیاء پر کس طور سے نازل ہوتی ہے اس سوال کا جواب کہ شہب تو ہمیشہ گرتے اس سوال کا جواب کہ شہب تو ہمیشہ گرتے ہیں مگر اُن کے گرنے سے ہمیشہ نبی ظاہر نہیں ہوتے۔ کاہنوں کے لئے اس بات کا سمجھنا کچھ مشکل نہ تھا کہ کثرت سقوط شہب کی کسی نبی اللہ کے ظہور پر دلالت ہے کیونکہ اُن کے شیاطین کثرت شہب کے ایام میں سماوی اخبار سے بکلی محروم رہتے تھے۔