ورنہؔ پہلے اِس سے تینتیس برس تک برابر دن رات زمین پر رہے اور ایک دم کے لئے بھی حضرت عیسیٰ سے جدا نہیں ہوئے اور برابر تینتیس برس تک اپنا وہ آسمانی مکان جو ہزار کوس کے طول و عرض سے کچھ کم نہیں ویران سُنسان چھوڑ دیا حالانکہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ ایک دم کے لئے بھی آسمان بقدر بالشت بھی فرشتوں سے خالی نہیں رہتا۔ اور تینتیس برس تک جو حضرت عیسیٰ کو وحی پہنچاتے رہے اس کی طرز بھی سب انبیاء سے نرالی نکلی کیونکہ بخاری نے اپنی صحیح میں اور ایسا ہی ابو داؤد اور ترمذی اور ابن ماجہ نے اور ایسا ہی مسلم نے بھی اِس پر اتفاق کیا ہے کہ نزول جبرائیل کا وحی کے ساتھ انبیاء پر وقتًا فوقتًا آسمان سے ہوتا ہے (یعنی وہ تجلی جس کی ہم تصریح کر آئے ہیں ) اور اس کی تائید میں ابن جریر اور ابن کثیر نے یہ حدیث بھی لکھی ہے۔ عن النواس بن سمعان رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ قال قال رسول اللّٰہ تب ایک نے اُن میں سے کہا کہ ستاروں کی قرار گاہوں کو دیکھو اگر وہ اپنے محل اور موقعہ سے ٹل گئے ہیں تو آسمان کے لوگوں پر کوئی تباہی آئی ورنہ یہ نشان جو آسمان پر ظاہر ہوا ہے ابن ابی کبشہ کی وجہ سے ہے (وہ لوگ شرارت کے طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ابن ابی کبشہ کہتے تھے) غرض عرب کے لوگوں کے دلوں میں یہ بات جمی ہوئی تھی کہ جب کوئی نبی دنیا میں آتا ہے یا کوئی اور عظیم الشان آدمی پیدا ہوتا ہے تو کثرت سے تارے ٹوٹتے ہیں۔ اِسی وجہ سے بمناسبت خیالات عرب کے شہب کے گرنے کی خدائے تعالیٰ نے قسم کھائی جس کا مدعا یہ ہے کہ تم لوگ خودتسلیم کرتے ہو اور تمہارے کاہن اِس بات کو مانتے ہیں کہ جب کثرت سے شہب گرتے ہیں تو کوئی نبی یا مُلہم من اللہ پیدا ہوتا ہے تو پھر انکار کی کیا وجہ ہے۔ چونکہ شہب کا کثرت سے گرناعرب کے کاہنوں کی نظر میں اِس بات کے ثبوت کے لئے ایک بدیہی امر تھا حال کے علماء کا یہ عقیدہ ہے کہ مسیح کی وحی کی طرز تمام انبیاء کی وحی سے نرالی ہے عرب کے کاہنوں کے دلوں میں بھی بسا ہوا تھا کہ شہب جب کثرت سے ٹوٹتے ہیں تو کوئی نبی پیدا ہوتا ہے اور اُن کا یہ ذاتی تجربہ تھا کہ شہب کی کثرت تساقط کے بعد اُن کو شیطانی خبریں کم ملتی ہیں۔