حتیؔ صعد بہ الی السَّماءِ۔ یعنی جبرائیل ہمیشہ حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھ ہی رہتا تھا ایک طرفۃ العین بھی اُن سے جدا نہیں ہوتا تھا یہاں تک کہ ان کے ساتھ ہی آسمان پر گیا۔ اِس جگہ دو باتیں نہایت قابلِ افسوس ناظرین کی توجہ کے لائق ہیں۔
(۱) اوّل یہ کہ اِن مولویوں کا تو یہ اعتقاد تھا کہ جبرائیل وحی لے کر آسمان سے نبیوں پر وقتًا فوقتًا نازل ہوتا تھا اور تبلیغ وحی کر کے پھر بلا توقف آسمان پر چلا جاتا تھا ۔ اب مخالف اِ س عقیدہ کے حضرت عیسیٰ کی نسبت ایک نیا عقیدہ تراشا گیا اور وہ یہ کہ حضرت عیسیٰ کی وحی کے لئے جبرائیل آسمان پر نہیں جاتا تھا بلکہ وحی خود بخود آسمان سے گِر پڑتی تھی اور جبرائیل ایک طرفۃ العین کے لئے بھی حضرت عیسیٰ سے جدا نہیں ہوتا تھا اُسی دن آسمان کا منہ جبرائیل نے بھی دیکھا جب حضرت عیسیٰ آسمان پر تشریف لے گئے
3۔ ۱ سورۃ الجن الجزو نمبر ۲۹۔ یعنی ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو اُس کو چوکیداروں سے یعنی فرشتوں سے اور شعلوں سے بھرا ہوا پایا اور ہم پہلے اِس سے امور غیبیہ کے سننے کے لئے آسمان میں گھات میں بیٹھا کرتے تھے اور اب جب ہم سننا چاہتے ہیں تو گھات میں ایک شعلے کو پاتے ہیں جو ہم پر گرتا ہے۔ ان آیات کی تائید میں کثرت سے احادیث پائی جاتی ہیں۔ بخاری مسلم ابوداؤد ترمذی ابن ماجہ وغیرہ سب اِس قسم کی حدیثیں اپنی تالیفات میں لائے ہیں کہ شہب کا گرنا شیاطین کے رد کرنے کے لئے ہوتا ہے اور امام احمد ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ شہب جاہلیت کے زمانہ میں بھی گرتے تھے لیکن ان کی کثرت اور غلظت بعثت کے وقت میں ہوئی چنانچہ تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت جب کثرت سے شہب گرے تو اہلِ طائف بہت ہی ڈر گئے اور کہنے لگے کہ شاید آسمان کے لوگوں میں تہلکہ پڑ گیا
حال کے مولویوں کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ کے ساتھ تیتیس برس تک برابر دن رات جبرائیل رہا کبھی اس عرصہ میں اُن سے جدا نہیں ہوا اور کہتے ہیں کہ یہ اعلیٰ درجہ کی فضیلت حضرت عیسیٰ کو دی گئی ہے اور کوئی نبی اس میں شریک نہیں یہاں تک کہ ہمارے نبی صلعم بھی اس فضیلت سے نعوذ باللہ محروم ہیں۔
آنحضرت صلعم کی بعثت کے سال میں شہب کثرت سے گرے تھے۔
۱ الجن:۹‘