ھاؔ جھم وجبرائیل معک یعنی اے حسّان کفار کی بدگوئی کا بدگوئی کے ساتھ جواب دے اور جبرائیل تیرے ساتھ ہے۔ اب ان احادیث سے ثابت ہوا کہ حضرت جبرائیل حسّان کے ساتھ رہتے تھے اور ہر دم اُن کے رفیق تھے اور ایسا ہی یہ آیت کریمہ بھی کہ33 ۱؂ صاف اور کُھلے کُھلے طور پر بتلا رہی ہے کہ روح القدس مومنوں کے ساتھ رہتا تھا۔ کیونکہ اِسی قسم کی آیت جو حضرت عیسیٰ کے حق میں آئی ہے یعنی 3 33 ۲؂ اس کی تفسیر میں تمام مفسرین اِس بات پر متفق ہیں کہ روح القدس ہر وقت قرین اور رفیق حضرت عیسیٰ کا تھا اور ایک دم بھی اُن سے جدا نہیں ہوتا تھا دیکھو تفسیر حسینی تفسیر مظہری تفسیر عزیزی معالم ابن کثیر وغیرہ اور مولوی صدیق حسن فتح البیان میں اِس آیت کی تفسیر میں یہ عبارت لکھتے ہیں و کان جبرائیل یسیر مع عیسٰی حیث سار فلم یفارقہ اُن میں پھیل گئے تھے نہایت شدید اعتقاد سے ان باتوں کو مانتے تھے کہ جس وقت کثرت سے ستارے یعنی شہب گرتے ہیں تو کوئی بڑا عظیم الشان انسان پیدا ہوتا ہے خاص کر اُن کے کاہن جو ارواح خبیثہ سے کچھ تعلّق پیدا کر لیتے تھے اور اخبار غیبیہ بتلایا کرتے تھے اُن کا تو گویا پختہ اور یقینی عقیدہ تھا کہ کثرت شہب یعنی تاروں کا معمولی اندازہ سے بہت زیادہ ٹوٹنا اِس بات پر دلالت کرتا ہے کہ کوئی نبی دنیا میں پیدا ہونے والا ہے اور ایسا اتفاق ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت حد سے زیادہ سقوط شہب ہوا جیسا کہ سورۃ الجن میں خداتعالیٰ نے اس واقعہ کی شہادت دی ہے اور حکایتًا عن الجنّات فرماتا ہے۔ 33 علماء اسلام کا یہ عقیدہ کہ حضرت عیسیٰ کے ساتھ روح القدس ہر دم اور ہر وقت رہتا تھا ۱؂ المجادلۃ:۲۳ ۲؂ البقرۃ: