و سلم فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اللّٰھم ایّد حسان بروح القدس کما نافح عن نبیّک۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسّان بن ثابت کے لئے مسجد میں منبر رکھا اور حسّان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کفار سے جھگڑتا تھا اور اُن کی ہجو کا مدح کے ساتھ جواب دیتا تھا پس رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسّان کے حق میں دعا کی اور فرمایا کہ یا الٰہی حسّان کو روح القدس کے ساتھ یعنی جبرائیل کے ساتھ مدد کر اور ابو داؤد نے بھی ابن سیرین سے اور ایسا ہی ترمذی نے بھی یہ حدیث لکھی ہے اور اُس کو حسن صحیح کہا ہے۔ اور بخاری اور مسلم میں بطول الفاظ یہ حدیث بھی موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسّان کو کہا اجب عنِّی اللّٰھم ایّدہ بروح القدس۔ یعنی میری طرف سے ( اے حسّان) کفار کو جواب دے یا الٰہی اس کی روح القدس سے مدد فرما۔ ایسا ہی حسّان کے حق میں ایک یہ بھی حدیث ہے
3۔3۔
3۔ ۱ الجزو نمبر ۲۷ سُورۃ النجم۔ یعنی قسم ہے تارے کی جب طلوع کرے یا گرے کہ تمہارا صاحب بے راہ نہیں ہوا اور نہ بہک گیا اور وہ اپنی خواہش سے نہیں بولتا بلکہ اُس کی ہر یک کلام تو وحی ہے جو نازل ہو رہی ہے جس کو سخت قوت والے یعنی جبرائیل نے سکھلایا ہے وہ صاحبِ قوت اس کوپورے طور پرنظر آیا اور وہ کنارہ بلند پر تھا۔
اِس قَسم کے کھانے سے مُدعا یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا امر کہ کفّار کی نظر میں ایک نظری امر ہے ان کے ان مسلّمات کی رُو سے ثابت کر کے دکھلایا جاوے جو اُن کی نظر میں بدیہی کا حکم رکھتے تھے۔
اب جاننا چاہیئے کہ عرب کے لوگ بوجہ ان خیالات کے جو کاہنوں کے ذریعہ سے
حسان بن ثابت کے لئے تائید روح القدس کے بارے میں بعینہٖ وہ الفاظ استعمال کئے گئے جو قرآن کریم میں حضرت عیسیٰ کی نسبت ااستعمال کئے گئے ہیں اور یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ اس مقام میں ان الفاظ کے یہی معنے ہوں کہ روح القدس دائمی طور پر حضرت عیسیٰ کو دیا گیا تھا اور ایک طرفۃ العین ان سے جدا نہیں ہوتا تھا لہٰذا بوجہ اتحاد الفاظ اس جگہ بھی وہی معنے ہونے چاہیئے۔
۱ النجم:۲ تا۸