قرآؔ ن کریم روحانی حیات کے ذکر سے بھرا پڑا ہے اور جا بجا کامل مومنوں کا نام احیاء یعنی زندے اور کُفار کا نام اموات یعنی مُردے رکھتا ہے۔ یہ اِسی بات کی طرف اشارہ ہے کہ کامل مومنوں کو روح القدس کے دخول سے ایک جان مل جاتی ہے اور کُفار گو جسمانی طور پر حیات رکھتے ہیں مگر اُس حیات سے بے نصیب ہیں جو دل اور دماغ کو ایمانی زندگی بخشتی ہے۔
اِس جگہ یاد رکھنا چاہیئے کہ اِس آیت کریمہ کی تائید میں احادیث نبویہ میں جا بجا بہت کچھ ذکر ہے اور بخاری میں ایک حدیث حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت سے ہے اور وہ یہ ہے۔ ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وضع لحسان ابن ثابت منبرا فی المسجد فکان ینافح عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ
کہ بیشک روحانی حفاظت کے لئے بھی حکیم مطلق نے کوئی ایسا انتظام مقرر کیا ہو گا کہ جو جسمانی انتظام سے مشابہ ہو گا سو وہ ملایک کا حفاظت کے لئے مقرر کرنا ہے۔
سو اِسی غرض سے خداتعالیٰ نے یہ قسم آسمان اور ستاروں کی کھائی تا ملایک کی حفاظت کے مسئلہ کو جو ایک مخفی اور نظری مسئلہ ہے نجوم وغیرہ کی حفاظت کے انتظام سے جو ایک بدیہی امر ہے بخوبی کھول دیوے اور ملایک کے وجود کے ماننے کے لئے غور کرنے والوں کے آگے اپنے ظاہر انتظام کو رکھ دیوے جو جسمانی انتظام ہے تا عقلِ سلیم جسمانی انتظام کو دیکھ کر اُسی نمونہ پر روحانی انتظام کو بھی سمجھ لیوے۔
دوسری قَسم جو بطور نمونہ کے ذیل میں لکھی جاتی ہے یہ ہے۔
3۔3۔
3۔3۔
رُوح القدس جو ہمیشہ کے لئے مومنوں کو ملتا ہے اس پر شہادت دینے والی بخاری کی حدیث