ابؔ اس تمام تحقیقات سے ظاہر ہے کہ جو کچھ صحیحین کے مرتبہ قطع اور یقین کی نسبت مبالغہ کیا گیا ہے وہ ہرگز صحیح نہیں اور نہ اس پر اجماع ہے اور نہ ان کی تمام حدیثیں جرح قدح سے خالی سمجھی گئی ہیں اور نہ وہ مخالفت قرآن کی حالت میں بالاجماع واجب العمل خیال کی گئی ہیں بلکہ ان کی صحت پر ہرگز اجماع نہیں ہوا۔ قولہ۔ یہ آپ کی عامیانہ بات ہے کہ پندرہ کروڑ حنفی صحیح بخاری کو نہیں مانتے بلکہ عام حنفی تو صحیح بخاری کی صحت سے ہرگز انکار نہیں کرتے۔ اقول۔ اس کا جواب ہوچکا ہے کہ علماء حنفیہ خبر واحد سے گو وہ بخاری ہو یا مسلم قرآن کریم کے کسی حکم کو ترک نہیں کرتے اور نہ اس پر زیادت کرتے ہیں اور امام شافعی حدیث متواتر کو بھی بمقابلہ آیت کالعدم سمجھتا ہے اور امام مالک کے نزدیک خبر واحد سے بشرط نہ ملنے آیت کے قیاس مقدم ہے۔ دیکھو صفحہ ۱۵۰ کتاب نورالانوار اصول فقہ۔ اس صورت میں جو کچھ ان اماموں کی نظر میں درصورت قرآن کے مخالف ہونے کے احادیث کی عزت ہوسکتی ہے عیاں ہے خواہ اس قسم کی حدیثیں اب بخاری* میں ہوں یامسلم میں۔ یہ ظاہر ہے کہ بخاری اور مسلم اکثر مجموعہ احاد کا ہے اور جب احاد کی نسبت امام مالک اور امام شافعی اور امام ابوحنیفہ کی یہی رائے ہے کہ وہ قرآن کے مخالف ہونے کی حالت میں ہرگز قبول کے لائق نہیں تو اب فرمائیے کیا اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ان بزرگوں کے نزدیک وہ حدیثیں بہرحال واجب العمل ہیں؟ اول حنفیوں اور مالکیوں وغیرہ سے ان سب پر عمل کرائے اور پھر یہ بات منہ پر لائے۔ قولہ۔ آپ اگر اس دعوے میں سچے ہیں تو کم سے کم ایک عالم کا متقدمین یا متاخرین میں سے نام بتاویں جس نے صحیح بخاری یا صحیح مسلم کی احادیث کو غیر صحیح یا موضوع کہا ہو۔ اقول۔ جن اماموں کا ابھی میں نے ذکر کیا ہے اگر وہ واقعی اور یقینی طور پر صحیحین کی احادیث کو واجب العمل سمجھتے تو آپ کی طرح ان کا بھی یہی مذہب ہوتا کہ خبر واحد سے قرآن پر زیادت مان لینا یا آیت کو منسوخ سمجھ لینا واجبات سے ہے لیکن میں بیان کرچکا ہوں کہ وہ خبر واحد کو قرآن کی مخالفت کی حالت میں ہرگز قبول نہیں کرتے اس سے ظاہر ہے کہ وہ صرف قرآن کریم کے سہارے سے اور بشرط مطابقت قرآن صحیحین کے احاد کو جو کل سرمایہ صحیحین کا ہے مانتے ہیں اور مخالفت کی حالت میں ہرگز نہیں مانتے۔آپ تلویح کی عبارت سن چکے ہیں کہ انما یرد خبرالواحد من معارضۃ الکتاب یعنی اگر کوئی حدیث احاد میں سے قرآن کے مخالف پڑے گی تو وہ رد کی جائے گی۔ اب دیکھئے کہ وہ نیا جھگڑا جو اب تک آپ نے محض اپنی نافہمی کی وجہ سے کیا ہے کہ قرآن