احادیثؔ کا معیار نہیں کیونکہ صاحب تلویح نے آپکو اس بارہ میں جھوٹاٹھہرایا ہے! اور تینوں امام اسی رائے میں آپکے مخالف ہیں! اور میں بیان کرچکا ہوں کہ میرا مذہب بھی اسی قدر ہے کہ باستثناء سنن متوارثہ متعاملہ کے جو احکام اور فرائض اور حدود کے متعلق ہیں باقی دوسرے حصہ کی احادیث میں سے جو اخبار اور قصص اور واقعات ہیں جن پر نسخ بھی وارد نہیں ہوتا اگر کوئی حدیث نصوص بینہ قطعیہ صریحۃ الدلالت قرآن کریم سے صریح مخالف واقع ہو گو وہ بخاری کی ہو یا مسلم کی میں ہرگز اس کی خاطر اس طرز کے معنی کو جس سے مخالفت قرآن لازم آتی ہے قبول نہیں کروں گا۔ میں بار بار اپنے مذہب کو اس لئے بیان کرتا ہوں کہ تا آپ اپنی عادت کے موافق پھر کوئی تازہ افترا اور بہتان میرے پر نہ لگاویں اور نہ لگانے کی گنجائش ہو* ۔اور ظاہر ہے کہ یہ میرا مذہب امام شافعی اور امام ابوحنیفہ اور امام مالک کے مذہب کی نسبت حدیث کی بہت رعایت رکھنے والا ہے کیونکہ میں صحیحین کی خبر واحد کو بھی جو تعامل کے سلسلہ سے موکد ہے اور احکام اور حدود اور فرائض میں سے ہو نہ حصہ دوم میں سے اس لائق قرار دیتا ہوں کہ قرآن پر اس سے زیادتی کی جائے اور یہ مذہب ائمہ ثلاثہ کا نہیں۔ مگر یاد رہے کہ میں واقعی زیادتی کا قائل نہیں بلکہ میرا ایمان انا انزلنا الکتاب تبیانالکل شیء پر ہے جیسا کہ میں ظاہر کرچکا ہوں- اب آپ سمجھ سکتی ہیں کہ میں اس مذہب میں اکیلا نہیں ہوں بلکہ اپنے ساتھ کم سے کم تین یار غالب رکھتا ہوں جن کا عقیدہ میرے موافق بلکہ مجھ سے بڑھ چڑھ کر ہے۔
قولہ ۔ اور آپ کا یہ کہنا کہ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے احادیث بخاری کو چھوڑ دیا یہ بھی عامیانہ بات ہے۔ آپ یہ نہیں جانتے کہ امام اعظم کب ہوئے اور صحیح بخاری کب لکھی گئی۔
اقول۔ جناب مولوی صاحب آپ ایمان کے ساتھ جواب دیں کہ میں نے کب اور کہاں لکھا ہے کہ صحیح بخاری امام اعظم رحمۃ اللہ کے زمانے میں موجود تھی؟ ان فضول مفتریانہ تحریروں سے آپ کی صرف یہ غرض ہے کہ عوام کے سامنے ہریک بات میں اس عاجز کیُ سبکی
کیوؔ نکہ اگر یہ مدوّ نات ان کے روبرو ہوتیں تو انہیں اپنا عقیدہ اور مسلمہ قاعدہ ان کتابوں کی مخالف الکتاب احادیث پر(اگر ہوں) جاری کرنے میں کون مانع ہوسکتا تھا۔
حضرؔ ت مرشدنا آپ ہزار پیش بندیاں کیا کریں۔ سو سو بار ایرپھیر کر اپنا مطلب بیان کریں۔ دلیر مولوی صاحب کب افترا سے باز آنے والے ہیں۔ ایڈیٹر۔