کیونکہؔ ان دونوں کتابوں میں متناقض خبریں موجود ہیں جو ایک دوسرے کی نقیض ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ اگر ان دونوں کی روایت علم قطعی اور یقینی کا موجب ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ نقیضین فی الواقع سچی ہوں اور یاد رہے کہ ابن الصلاح اور اس کے رفیقوں کی رائے جمہور فقہاء اور محدثین کے برخلاف ہے کیونکہ یہ ایک امر ممنوع ہے جس کو کوئی ثابت نہیں کرسکتا کہ بخاری اور مسلم کو اپنی روایت کے رو سے دوسروں پر زیادتی ہے اور امام بخاری اور مسلم کی عظمتِ شان اور ان کی کتابوں کا امت میں قبول کیا جانا اگر مان بھی لیا جاوے تب بھی اس بات کی دلیل نہیں ہوسکتا کہ وہ کتابیں قطعی اور یقینی ہیں۔ کیونکہ امت نے ان کے مرتبہ قطع اور یقین پر ہرگز اجماع نہیں کیا بلکہ صرف اسقدر مانا گیا اور قبول کیا گیا ہے کہ دونوں کتابوں کے راوی ان شرطوں کے جامع ہیں جو جمہور نے قبول روایت کیلئے لگادی ہیں اور ظاہر ہے کہ صرف اسقدر تسلیم سے قطع اور یقین پیدانہیں ہوتا بلکہ صرف ظن پیدا ہوتا ہے اور یہ بات کہ درحقیقت صحیح بخاری اور مسلم کی مرویات ثابت ہیں اور جس قدر حدیثیں ان میں روایت کی گئی ہیں وہ درحقیقت جرح سے مبرّا ہیں اس پر امت کا ہرگز اجماع نہیں بلکہ اس اجماع کا تو کیا ذکر اس بات پر بھی اجماع نہیں کہ جو کچھ ان دونوں کتابوں میں ہے وہ سب صحیح ہے کیونکہ بخاری اور مسلم کے بعض راویوں میں سے قدری بھی ہیں اور بعض اہل بدع بھی راوی ہیں جنکی روایت قبول نہیں ہوسکتی۔ پس جب کہ یہ حال ہے تو اجماع کہاں رہا! کیا مرویات قدر یہ پر بھی اجماع ہوجائے گا؟ غایت مافی الباب یہ ہے کہ ان کی حدیثیں اصح ہیں اور شروط معتبرہ جمہور پر علیٰ وجہ کمال مشتمل ہیں سو اس سے بھی صرف ایک ظن قوی پیدا ہوتا ہے نہ کہ یقین۔ پھر جو ہم نے بخاری اور مسلم کے صحیحوں کی نسبت بیان کیا ہے یہی حق بات ہے جس کی پیروی کرنی چاہئے اور شیخ ابن الہمام نے کیا اچھا فرمایا ہے کہ یہ قول محدثین کا کہ مرویات صحیحین ان کے ماسوا پر مقدم ہیں ایک ایسا بے معنی قول ہے جو قابل اعتماد والتفات نہیں اور ہرگز پیروی کے لائق نہیں بلکہ صریح اور صاف تحکم ہے انہیں تحکمات میں سے جو کھلے کھلے طور پر ان لوگوں نے کئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اگر اصحیت کا مدار عدالت اور ضبط پر ہے تو کیا ایسی کتابیں جن میں یہ شرط پائی جاتی ہے کم درجہ پر ہوں گی۔ سو ان دونوں کتابوں کی زیادتی پر حکم لگانا محض تحکم ہے اور تحکم قابل التفات نہیں فافہم۔ اور شرح نووی کی جلدثانی صفحہ۹۰ میں زیر تشریح اس مسلم کی حدیث کے کہ یا امیرالمؤمنین اقض بینی وبین ھذا الکاذب الاٰثم الغادر الخائن۔ امام نووی فرماتے ہیں کہ جب ان الفاظ کی تاویل سے ہم عاجز آجائیں تو ہمیں کہنا پڑتا ہے کہ اسکے راوی جھوٹے ہیں۔