ممنوؔ ع والاجماع علی مزیتھما فی انفسھما لایفید لان جلالۃ شانھما وتلقی الامۃ بکتابھما لوسُلّم لایستلزم ذالک القطع والعلم فان القدر المسلم المتلقی بین الامۃ لیس الا ان رجال مرویاتھما جامعۃ للشروط التی اشترطھا الجمہور بقبول روایتھم وھذا لایفید الاالظن واما ان مرویاتھما ثابتۃ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فلا اجماع علیہ اصلا کیف ولا اجماع علی صحتہ جمیع ما فی کتابھما لان رواتھما منھم قدریون وغیرھم من اھل البدع و قبول روایۃ اھل البدع مختلف فیہ فاین الاجماع علی صحۃ مرویات القدریۃ غایۃ مایلزم ان احادیثھا اصح الصحیح یعنی انھا مشتملۃ علی الشروط المعتبرۃ عند الجمھور علی الکمال وھذا لایفیدالاالظن القوی ھذا ھوالحق المتبع ولنعم ماقال الشیخ ابن الھمام ان قولھم بتقدیم مرویاتھم علی مرویات الائمۃ الاٰخرین قول لایعتدبہ ولایقتدی بل ھو من محکماتھم الصرفۃ کیف لاوان الاصحۃ من تلقاء عدالۃ الرواۃ وقوۃ ضبطھم واذاکان رواۃ غیرھم عادلین ضابطین فھما وغیرھما علی السواء لا سبیل للتحکم بمزیتھا علی غیرھما الاتحکما والتحکم لایتلفت الیہ فافھم۔ خلاصہ ترجمہ یہ ہے کہ صاحب مسلم الثبوت جو بحرالعلوم سے ملقّب ہے فرماتا ہے کہ ابن الصلاح اور ایک طائفہ اہل حدیث نے یہ گمان کیا ہے کہ روایت شیخین محمد ابن اسماعیل البخاری اور مسلم کی جو صحیحین میں ہے علم نظری کی مفید ہے کیونکہ اس بات پر اجماع ہوچکا ہے کہ صحیح بخاری اور مسلم کو ان کے غیر پر فضیلت ہے اور امت ان دونوں کو قبول کرچکی ہے اور اجماع قطعی ہے۔پس واضح ہو کہ ان دونوں کتابوں کی صحت پر اجماع ہونا بہتان ہے۔ ہر ایک شخص اپنے وجدان کی طرف رجوع کر کے ضروری طور پر معلوم کرسکتا ہے کہ ان دونوں کی مجرد روایت موجب یقین نہیں یعنی کوئی بات ایسی نہیں جس سے خواہ نخواہ ان کی روایت موجب یقین سمجھی جائے بلکہ حال اس کے مخالف ہے بناؔ ء علی ہذا جو شخص اپنی بیوی کو ان لفظوں سے مطلقہ قرار دے کہ اگر بخاری میں یہ حدیث ہے تو میری عورت پر طلاق ہے تو اگرچہ یقینی طور پر طلاق نہ پڑے لیکن کچھ شک نہیں کہ ظن غالب کے طور پر ضرور طلاق پڑگئی۔ کیونکہ ہم مامور ہیں کہ مومن پر حسن ظن کریں اور اس کی شہادت کو ساقط الاعتبار نہ سمجھیں۔ فتدبر۔ ایڈیٹ