سوؔ یہ علامہ نووی کا جرح آپ لوگوں کی توجہ کے لائق ہے کیونکہ علامہ نووی کی شان فن حدیث میں کسی پرمخفی نہیں اورعلامہ تفتازانی نے اپنی تلویح میں صحیح بخاری کی ایک حدیث کو موضوع قرار دیاہے اور ہمارا مذہب تو یہی ہے کہ ہم ظن غالب کے طور پر بخاری اور مسلم کو صحیح سمجھتے ہیں واللہ اعلم بالصواب۔ اور شرح مسلم الثبوت میں لکھا ہے۔ابن الصلاح وطائفۃ من الملقبین باھل الحدیث(زعموا ان روایۃ الشیخین محمدابن اسماعیل البخاری ومسلم بن الحجاج صاحبی الصحیحین یفیدالعلم النظری للاجماع علی ان للصحیحین مزیۃ علی غیر ھماوتلقت الامۃ بقبولھما والاجماع قطعی وھٰذابھت فان من راجع الی وجدانہ یعلم بالضروریۃ ان مجرد روایتھما لایوجب الیقین البتۃ وقد روی فیھما اخبارٌ متناقضۃ فلوا فاد روایتھما علمالزم تحقق النقیض فی الواقع وھذا ای ماذھب الیہ ابن الصلاح واتباعہ بخلاف ماقالہ الجمھور من الفقھاء والمحدثین لان انعقاد الاجماع علی المزیۃ علی غیرھما من مرویات ثقات اٰخرین عمدؔ اً کذب اور افترا کیا ہے کیونکہ احتمال قوی ہے کہ حضرت علامہ موصوف نے کسی قلمی نسخے میں بخاری شریف کی یہ حدیث ضرور دیکھی ہوگی۔ بخاری کے مختلف نسخوں پر گہری نگاہ ڈالنے سے اب تک ثابت ہوتاہے کہ باوجود سخت کوشش تصحیح و تطبیق کے پھر بھی بعض الفاظ بعض نسخوں کے بعد دوسرے نسخوں کے الفاظ سے مغائر ہیں۔ پھر کیا تعجب کا مقام ہے کہ کسی پرانے قلمی نسخے بخاری میں جو علامہ موصوف کی نظر سے گذرا یہ حدیث موجود ہو بلکہ یقین کا پلہ اسی جانب کو جھکتا ہے کہ ضرور کسی نسخے میں یہ حدیث لکھی ہوگی ایک ایسے مسلمان کی شہادت جو اکابر فقہائے حنفیہ میں سے ہے ہرگز ساقط الاعتبارنہیں ہوسکتی کس کاایسا دل گردہ ہے اور کس کااسلام و ایمان اس امر کو روا رکھتا ہے کہ ایسے بزرگ علماء اسلام ایسے خدا ترس فاضلوں کو کذب وافترا اور فاحش دروغ بافی کی تہمت لگائی جائے۔ اور اس میں شک نہیں کہ اگر یہ شہادت خلاف واقعہ ہوتی تو علامہ کی زندگی میں ہی یہ مقام تلویح کا ترمیم کے لائق ٹھہرتا نہ یہ کہ اب تک یہ عبارت تلویح میں محفوظ چلی آتی۔ غرض جس حالت میں صاحب تلویح کی شہادت سے یہ ثابت ہوا ہے کہ بخاری کے کسی نسخے میں یہ عبارت لکھی ہوئی تھی تو جب تک دنیا کے تمام قلمی نسخے دیکھ نہ لئے جائیں یہ احتمال ہرگز اٹھ نہیں سکتا۔ اور بخاری کے کسی قلمی نسخے میں اسکا موجود ماننا بہت آسان ہے بہ نسبت اسکے کہ ایک برگزیدہ عالم کی نسبت افترا واختلاق کی تہمت لگائی جائے