کی ؔ مسجدیں بھی آپ کی مساجد کی طرح آمین کے شور سے گونج اٹھتیں اور نیز وہ رفع یدین اور ایسا ہی تمام اعمال حسب ہدایت بخاری و مسلم بجا لاتے اور آپ کا یہ کہنا کہ وہ لوگ حدیث کو مسلّم اور واجب العمل ٹھہراتے صرف دوسرے طور پر معنے کرتے ہیں یہ دوسرا جھوٹ ہے حضرت وہ تو صریح ضعیف یا منسوخ قرار دیتے ہیں۔ اگر آپ اس بات میں سچے ہیں تو شہر لدھیانہ کے علماء جمع کر کے اپنے قول کی شہادت ان سے دلاؤ ورنہ یہ آپ کا افترا ایسا نہیں ہے جس سے آپ کچے عذروں کے ساتھ بری ہوسکیں۔
قولہ۔ امام ابن الصلاح نے فرمایا ہے کہ صحیحین کی اتفاقی حدیثیں موجب یقین ہیں اور امام نووی نے شرح مسلم میں فرمایا ہے کہ اس پر اتفاق ہوگیا ہے کہ اصح الکتب بعد کتاب اللہ صحیحین ہیں۔
اقول۔ کسی ایک یاد و شخص کا اپنی طرف سے رائے ظاہر کرنا حجت شرعی نہیں ہوسکتا پس اگر امام ابن الصلاح نے صحیحین کے اتفاقی حدیثوں کو عام طور پر موجب یقین مان لیا ہے تو مانا کرے ہمارے لئے وہ کچھ حجت نہیں۔ اگر ایسی متفق رائیں حجت ٹھہر سکتی ہیں تو پھر ان لوگوں کی رائیں بھی حجت ہونی چاہئیں جنہوں نے بخاری اور مسلم کی بعض حدیثوں کا قدح کیا ہے۔ چنانچہ تلویح میں لکھا ہے کہ بخاری میں یہ حدیث ہے تکثرلکم الاحادیث من بعدی فاذاروی لکم حدیث فاعرضوہ علی کتاب اللہ تعالی فماوافقہ فاقبلوہ وما خالفہ فردوہ یعنی میرے بعد حدیثیں کثرت سے نکل آئیں گی سو تم یہ قاعدہ رکھو کہ جو حدیث تم کو میرے بعد پہنچے یعنی جو حدیث ما اتاکم الرسول کے زمانہ کے بعد ملے اس کو کتاب اللہ پر عرض کرو اگر اس کے موافق ہو تو اس کو قبول کرو اور اگر مخالف ہو تو رد کرو۔ ھذا مانقلناہ من کتاب التلویح والعھدۃ علی الراوی*اور منہاج شرح صحیح مسلم میں حافظ ابوزکریا بن شرف النووی نے حدیث شریک پر جو مسلم اور بخاری دونوں میں ہے جرح کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ فقرہ کہ ذلک قبل ان یوحی الیہ ہے غلط صریح ہے
صحیح بخاری کے جس قدر مطبوعہ نسخے ہم نے دیکھے ہیں ان میں یہ حدیث بایں الفاظ پائی نہیں جاتی۔ گو دوسری حدیثیں ایسی بخاری میں موجود ہیں جو اپنے مآل اور ماحصل اور مفہوم میں اس حدیث کے معانی کے ممدو مقوی ہیں۔ اور مسلم میں ہے اما بعد فان خیر الحدیث کتاب اللہ۔ انما ھلک من کان قبلکم باختلافھم فی الکتاب۔ اور دار قطنی میں ہے۔ کلامی لاینسخ کلام اللہ۔ المراء فی القراٰن کفررواہ احمد وابوداؤد۔ وفی البخاری قال عمر رضی اللہ عنہ حسبنا کتاب اللہ لیکن مطبوعہ نسخوں میں اس حدیث کابالفاظہٖ نہ پایا جانا اس پر دلالت نہیں کرتا کہ علامہ تفتازانی نے