معیارؔ اور محک ہے گو عام طور پر بوجہ عدم بصیرت اس معیار سے وہ کام نہیں لے سکتے لیکن حدیث کے دونوں حصوں میں جو ہم بیان کر آئے ہیں حصہ ثانی کی نسبت جو اخبار اور واقعات اور قصص اور وعدے وغیرہ ہیں جن پر نسخ جاری نہیں بے شک وہ کھلے کھلے طور پر قرآن کریم کے محکمات اور بینات اور قطعی اور یقینی فیصلجات کو احادیث مرویہ کے پرکھنے کیلئے محک اور معیار ٹھہرا سکتے ہیں بلکہ ضرور ٹھہرانا چاہئے تا وہ اس علم سے مستفید ہوجائیں جو ان کو دیا گیا ہے۔ کیونکہ قرآن کریم کی محکمات اور بینات علم ہے اور مخالف قرآن کے جو کچھ ہے وہ ظن ہے۔ اور جو شخص علم ہوتے ہوئے ظن کا اتباع کرے وہ اس آیت کے نیچے داخل ہے ۱ ۲
قولہ۔ آپ نے جو باستدلال آیت ۳ احادیث پر اعتراض کیا ہے یہ آپ کی ناواقفی پر مبنی ہے۔
اقول۔ آپ کیوں بار بار اپنی نافہمی ظاہر کرتے ہیں میرا عام طور پر احادیث پر اعتراض نہیں بلکہ ان احادیث پر اعتراض ہے جو ادلہ قطعیّہ بیّنہ صریحہ قرآن کریم سے مخالف ہوں۔
قولہ۔ علماء اسلام کا حنفی ہوں یا شافعی اہل حدیث ہوں یا اہل فقہ اس بات پر اتفاق ہے کہ خبر واحد صحیح ہو تو واجب العمل ہے۔
اقول۔ آپ کی علمیّت اور لیاقت اور واقفیت بات بات میں ظاہر ہورہی ہے۔ حضرت سلامت حنفیوں کا ہرگز یہ مذہب نہیں کہ مخالفت قرآن کی حالت میں خبر واحد واجب العمل ہے اور نہ شافعی کا یہ مذہب ہے بلکہ فقہ حنفیہ کا تو یہ اصول ہے کہ جب تک اکثر قرنوں میں تواتر حدیث کا ثابت نہ ہو۔ گو پہلے قرن میں نہیں مگر جب تک بعد میں اخیر تک تواتر نہ ہو تب تک ایسی حدیث کے ساتھ قرآن پر زیادت جائز نہیں اور شافعی کا یہ مذہب کہ اگر حدیث آیت کے مخالف ہو تو باوجود تواتر کے بھی کالعدم ہے پھر آپ نے کہاں سے اور کس سے سن لیا کہ ان سب کے نزدیک خبر واحد بہرحال واجب العمل ہے؟ اگر یہ کہو کہ ہمارا منشاء اس کلام سے یہ ہے کہ اگر خبر واحد مخالف قرآن کے نہ ہو تو اس صورت میں ان بزرگوں کے نزدیک واجب العمل ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ آپ کاکب اور کس دن یہ منشاء ہوا تھا؟ اگر آپ کا یہ منشاء ہوتا تو آپ اس بحث کو کیوں طول دیتے !
قولہ۔ اسی وجہ سے(جو خبر واجب العمل ہے) علماء اسلام نے جس میں مقلد ومحدث سب داخل ہیں اتفاق کیا ہے کہ صحیحین کی حدیثیں واجب العمل ہیں اور موافقین اور مخالفین کا ان پر اجماع ہے۔
اقول۔ میں نہیں جانتا کہ اس سفید جھوٹ سے آپ کی غرض کیا ہے اگر علماء مقلدین کے نزدیک بخاری اورمسلم کی حدیثیں بغیرکسی عذرنسخ وغیرہ کے بہرحال واجب العمل ہوتیں تو وہ بھی آپکی طرح خلف امام فاتحہ پڑھتے اور ان