منسوخ ؔ ہوسکتی ہے مگر امام شافعی اس بات کا قائل ہے کہ متواتر حدیث سے بھی قرآن کا نسخ جائز نہیں اور بعض محدثین خبر واحد سے بھی نسخ آیت کے قائل ہیں لیکن قائلین نسخ کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ حقیقی اور واقعی طور پر حدیث سے آیت منسوخ ہوجاتی ہے بلکہ وہ لکھتے ہیں کہ واقعی امر تو یہی ہے کہ قرآن پر نہ زیادت جائز ہے اور نہ نسخ کسی حدیث سے لیکن ہماری نظر قاصر میں جو استخراج مسائل قرآن سے عاجز ہے یہ سب باتیں صورت پذیر معلوم ہوتی ہیں اور حق یہی ہے کہ حقیقی نسخ اور حقیقی زیادت قرآن پر جائز نہیں کیونکہ اس سے اس کی تکذیب لازم آتی ہے نور الانوار جو حنفیوں کے اصول فقہ کی کتاب ہے اس کے صفحہ ۹۱ میں لکھا ہے۔ روی عن النبی صلی اللہ علیہ و سلم بعث معاذا الی الیمن قال لہ بماتقضی یامعاذ فقال بکتاب اللہ قال فان لم تجد قال بسنۃ رسول اللہ قال فان لم تجد قال اجتھد برأی فقال الحمدللہ الذی وفق رسولہ بما یرضی بہ رسولہ لایقال انہ یناقض قول اللہ تعالی ما فرطنا فی الکتاب من شیءٍ فکل شیءٍ فی القرآن فکیف یقال فان لم تجد فی کتاب اللہ لانّا نقول ان عدم الوجدان لایقضی عدم کونہ فی القرآن ولھٰذا قال صلی اللہ علیہ و سلم فان لم تجد‘ ولم یقل فان لم یکن فی الکتاب۔ اس عبارت مذکورہ بالا میں اس بات کا اقرار ہے کہ ہر ایک امر دین قرآن میں درج ہے کوئی چیز اس سے باہر نہیں اور اگر تفاسیر کے اقوال جو اس بات کے مؤیّد ہیں بیان کئے جائیں تو اس کیلئے ایک دفتر چاہئے- لہٰذا اصل حق الامر یہی ہے کہ جو چیز قرآن سے باہر یااس کے مخالف ہے وہ مردود ہے اور احادیث صحیحہ قرآن سے باہر نہیں۔ کیونکہ وحی غیر متلو کی مدد سے وہ تمام مسائل قرآن سے مستخرج اور مستنبط کئے گئے ہیں۔ ہاں یہ سچ ہے کہ وہ استخراج اور استنباط بجز رسول اللہ یا اسی شخص کے جو ظلّی طور پر ان کمالات تک پہنچ گیا ہو ہریک کا کام نہیں اوراس میں کچھ شک نہیں کہ جن کو ظلّی طورپر عنایات الٰہیہ نے وہ علم بخشا ہو جو اس کے رسول متبوع کو بخشا تھا وہ حقائق و معارف دقیقہ قرآن کریم پر مطلع کیا جاتا ہے جیسا کہ اللہ جلّ شانہٗ کا وعدہ ہے لَا ۱؂ اور جیسا کہ وعدہ ہے یُؤْتِی ۲؂ ا س جگہ حکمت سے مراد علم قرآن ہے۔ سو ایسے لوگ وحی خاص کے ذریعہ سے علم اور بصیرت کی راہ سے مطلع کئے جاتے ہیں اور صحیح اور موضوع میں اس خاص طور کے قاعدہ سے تمیز کرلیتے ہیں۔ گو عوام اور علماء ظواہر کو اسکی طرف راہ نہیں لیکن ان کا اعتقاد بھی تو یہی ہونا چاہئے کہ قرآن کریم بے شک احادیث مرویہ کیلئے بھی