اورؔ امور ہیں جن کا نام میں احادیث مجردہ رکھتا ہوں۔ سنن متوارثہ کے نام سی انہیں موسوم نہیں کرتا اور وہی ہیں جو سلسلۂ تعامل سے خارج ہیں اور مسلمانوں کو تعامل کی حدیثوں کی طرح ان کی کوئی بھی ضرورت نہیں اگر اسی مجلس میں بعض قصص بخاری یا مسلم کے حاضر الوقت مسلمانوں سے دریافت کی جائیں تو ایسے آدمی بہت ہی تھوڑے نکلیں گے جن کو وہ تمام حالات معلوم ہوں بلکہ بجز کسی ایسے شخص کے جو اپنی معلومات کے بڑھانے کی غرض سے دن رات احادیث کا شغل رکھتا ہے اور کوئی نہیں ہے جو بیان کرسکے لیکن ہریک مسلمان ان تمام احکام اور فرائض کو جو ہم پہلے حصہ میں داخل کرتے ہیں عملی طور پر یاد رکھتا ہے کیونکہ وہ مسلمان بننے کی حالت میں دائمی طور پر اس کو کرنی پڑتی ہیں یا کبھی کبھی کرنے کیلئے وہ مجبور کیا جاتا ہے ہاں یہ سچ ہے کہ تعامل کے متعلق جو احکام ہیں وہ سب ثبوت کے لحاظ سے ایک درجہ پر نہیں جن امور کی مواظبت اور مداومت بلافتور و اختلاف چلی آئی ہے وہ اول درجہ پر ہیں اور جس قدر احکام اپنے ساتھ اختلاف لے کر تعامل کے دائرہ میں داخل ہوئے ہیں وہ بحسب اختلاف اس پہلے نمبر سے کم درجہ پر ہیں مثلاً رفع یدین یا عدم رفع یدین جود و طور کا تعامل چلا آتا ہے ان دونوں طوروں سے جو تعامل قرن اول سے آج تک کثرت سے پایا جاتا ہے اس کا درجہ زیادہ ہوگا اور بااینہمہ دوسرے کو بدعت نہیں ٹھہرائیں گے بلکہ ان دونوں عملوں کی تطبیق کی غرض سے یہ خیال ہوگا کہ باوجود مسلسل تعامل کے پھر اس اختلاف کا پایا جانا اس بات پر دلیل ہے کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے ہفت قرأت کی طرح طرق ادائے صلوٰۃ میں رفع تکلیف امت کیلئے وسعت دیدی ہوگی اور اس اختلاف کو خود دانستہ رخصت میں داخل کردیا ہوگا تا امت پر حرج نہ ہو۔ غرض اس میں کون شک کرسکتا ہے کہ سلسلہ تعامل سے احادیث نبویہ کو قوت پہنچتی ہے اور سنت متوارثہ متعاملہ کا ان کو لقب ملتا ہے۔ یاد رکھنا چاہئے کہ جو نمبر اول پر سلسلہ تعامل احکام ہے وہ اختلاف سے بکلی محفوظ ہے۔ کوئی مسلمان اس بات میں اختلاف نہیں رکھتا کہ فریضہ صبح کی دو رکعت ہیں اور مغرب کی تین اور ظہر اور عصر اور عشاء کی چار چار اور کسی کو اس بات میں اختلاف نہیں کہ ہریک نماز میں بشرطیکہ کوئی مانع نہ ہو قیام اور قعود اور سجود اور رکوع ضروری ہے اور سلام کے ساتھ نماز سے باہر آنا چاہئے ایسا ہی خطبہ جمعہ اور عیدین اور عبادت اور اعتکاف عشرہ اخیرہ رمضان اور حج اور زکوٰۃ ایسے امور ہیں جوبہ برکت تعامل اپنے نفس وجود میں محفوظ چلی آتی ہیں۔ اور ہمارا یہ دعویٰ نہیں کہ ہر ایک حکم نبوی اور تعلیم مصطفوی یکساں طور پر سلسلہ تعامل میں آگئی ہے ہاں جو کامل طور پر آگیا ہے وہ کامل طور پر ثبوت کا نور اپنے ساتھ رکھتا ہے ورنہ جس قدر یا جس مرتبہ تک کوئی حکم سلسلہ تعامل سے فیض یاب ہوا ہے اسی قدر ثبوت اور یقین کے رنگ سے رنگین ہوگیا ہے۔