اقوؔ ل۔ آپ کا یہ ثابت کرنا اس بات کو ثابت کررہا ہے کہ علاوہ حدیث دانی کے سخن فہمی کا بھی آپ کوبہت سا ملکہ ہے *۔ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ میں نے جو کچھ اپنی پہلی تحریروں کے نمبر چہارم و پنجم میں بیان کیا ہے وہ عام لوگوں کے سمجھانے کیلئے ایک عام فہم عبارت ہے اسی لئے میں نے اہل حدیث کی اصطلاح سے کچھ سروکار نہیں رکھا۔ کیونکہ جو مضمون عام جلسہ میں پڑھا جائے وہ حتی الوسع عوام کے فہم اور استعداد کے موافق ہونا چاہئے نہ کہ ملاؤں کی طرح لفظ لفظ میں اپنے علم کی نمائش ہو۔ اور یہ بات ہر ایک کی سمجھ میں آسکتی ہے کہ فی الواقعہ احادیث کے دو ہی حصے ہیں ایک وہ جو احکام اور ایسے امور سے متعلق ہیں جو اصل تعلیم اسلام اور تعامل سے تعلق رکھتے ہیں اور ایک وہ جو حکایات اور واقعات اور قصص اور اخبار ہیں جن کا سلسلہ تعامل سے کچھ ایسا ضروری تعلق قرار نہیں دیا گیا سو میں نے ضروریات دین کے لفظ سے انہی امور کو مراد لیا ہے جن کا سلسلہ تعامل سے ضروری تعلق ہے اور آپ اپنی حدیث دانی دکھلانے کیلئے اس صاف اور سیدھی تقریر پر بے جا مواخذہ کرنا چاہتے ہیں اور ناحق ضروریات کے لفظ کو پکڑ لیا ہے۔ کیا آپ کو اس بات کا بھی علم نہیں کہ ہر ایک شخص اپنے لئے اصطلاح قرار دینے کا مجاز ہے؟ آپ فرماتے ہیں کہ اگر ضروریات سے مراد امور متعلقہ حاجت ہوں تو اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی کوئی حدیث خارج و مستثنیٰ نہیں رہتی آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے جو کچھ دین میں فرمایا ہے وہ دینی حاجت اور ضرورت کے متعلق ہے لیکن افسوس کہ آپ دانستہ حق پوشی کررہے ہیں۔ آپ خوب جانتے ہیں کہ اخبارو قصص کو جو امر متنازعہ فیہ ہے سلسلۂ تعامل سے کوئی معتدبہ تعلق نہیں جو کچھ ہمیں مسلمان بننے کیلئے ضرورتیں ہیں وہ احکام فرمودہ اللہ اور رسول سے حاصل ہیں اور وہی احکام تعامل کی صورت میں عصراً بعد عصرٍ صادر ہوتے رہتے ہیں مسلم اور بخاری میں کئی جگہ بنی اسرائیل کے قصے اور انبیاء اور اولیاء اور کفار کی بھی حکایتیں ہیں جن پر بجز خاص خاص لوگوں کے جو فن حدیث کا شغل رکھتے ہیں دوسروں کو اطلاع تک نہیں اور نہ حقیقت اسلامیہ کی تحقیق کیلئے ان کی اطلاع کچھ ضروری ہے سو وہی اور اسی قسم کے
* حضرت مرشدنا! مولوی صاحب کی سخن فہمی اور سخن دانی کاایک یہ خاکسار بھی قائل ہے اور ثبوت میں مولوی صاحب کا یہ نادر شعر پیش کرتا ہوں۔
آنکس کہ خود زضعف ومرض لاغری کند اللہ اللہ ! صدق من قال وہوالقائل العزیز ۔۱ الاٰیۃ۔ ایڈیٹر