قوؔ لہ۔ آپ نے جو سلامت فہم راوی شرط ٹھہرایا ہے یہ آپ کے فنون حدیث کی ناواقفی پر دلیل ہے فہم معنے ہریک حدیث کی روایت کے لئے شرط نہیں ہے بلکہ خاص کر اس حدیث کی روایت کیلئے شرط ہے جس میں بالمعنے روایت ہو۔
اقول۔ حضرت میں نے سلامت فہم کو شرط ٹھہرایا ہے نہ فہم معنی کو خدا تعالیٰ آپ کو سلامت فہم ۱ بخشے۔ سلامت فہم تو یہ ہے کہ قوت مدرکہ میں کوئی آفت نہ ہو۔ اختلال دماغ نہ ہو۔ اور یہ بھی سراسر آپ کی کم فہمی معلوم ہوتی ہے کہ حدیث کے راویوں نے محض الفاظ سے غرض رکھی ہے یہ ظاہر ہے کہ جب تک لفظ کے سننے سے اس کے معنی کی طرف ذہن انتقال نہ کرے اور مجرد الفاظ بغیر معانی کے یاد ہوں جیسے ایک شخص انگریزی سے محض ناآشنا اس کے چند لفظ سن کر یاد کر لیوے ایسا شخص مبلغین میں داخل نہیں ہوسکتا۔صحابہ رضی اللہ عنہم آنحضرت کی احادیث کے مبلغ تھے اور تبلیغ کیلئے کم سے کم اس قدر تو فہم ضروری ہے کہ لغوی طور پر ان عبارتوں کے معنے معلوم ہوں۔ اور جو شخص اس قدر فہم بھی نہیں رکھتا کہ مجھے جو دوسرے تک پہنچانے کیلئے ایک بات کہی گئی وہ کس زبان میں ہے کیا عربی ہے یا انگریزی یا ترکی یا عبری اور اس کے معنے کیا ہیں ایسا شخص کیا خاک اس پیغام کی تبلیغ کرے گاا ور اگر حدیثوں کے ایسے ہی مبلغ تھے کہ ان کیلئے ذرہ بھی یہ شرط نہیں تھی کہ الفاظ کے لغوی معنی بھی انہیں معلوم ہوں تو ایسے مبلغوں سے خدا حافظ ۲ اور ایسوں سے جو فن حدیث کی شان کو دھبہ لگتا ہے وہ پوشیدہ نہیں جو شخص ایک ایسا پیغام پہنچاتا ہے جو بکلی قوت مدرکہ اس کے اس پیغام کے الفاظ سمجھنے سے بے نصیب ہے وہ ان الفاظ کے یاد رکھنے میں بھی کب اور کیونکر محفوظ رہ سکتا ہے؟ جیسے وہ شخص جو انگریزی زبان سے بکلی ناواقف ہے وہ انگریزی عبارتوں کو کئی مرتبہ سن کر بھی یاد نہیں رکھ سکتا بلکہ ایک لفظ بھی اس لہجہ پر ادا نہیں کرسکتا اور یہ آپ کا دعویٰ بھی بالکل فضول ہے کہ حدیثیں بعینہٖ الفاظ سے نقل ہوئی ہیں بجز اس صورت کے کہ صحابی نے بالمعنے
۱ اس کی تو بہت کم توقع ہے اب ضرور ہے کہ عجلت مزاج مولوی صاحب ان تمام عواقب اور عوارض اور لوازم کو اپنے اوپر وارد ہوتا دیکھیں جو ایک اولو العزم جری اللہ ولی اللہ کی مخالفت و معادات کا اٹل نتیجہ ہیں سچ ہے من عادیٰ لی ولیا فقد آذنتہ بالحرب ۔سلامت طبع۔ سلامت حواس اور معقول پسندی بالمرہ مولوی صاحب سے رخصت ہوگئی ہے ان کی تحریرات موجودہ اس کی شاہد ہیں۔ ایڈیٹر
۲ مولوی صاحب کے ہوش و حواس کو کیا ہوگیا مولوی صاحب نے ٹھیک اس وقت نادان دوست کا روپ بھرا ہوا ہے خدارا وہ غور کریں کہ وہ علٰی غفلۃٍ حدیث کی حمایت کی آڑ میں اس کی تردید کررہے ہیں۔ ایڈیٹر