واقعؔ ہوا ہے جیسا کہ احادیث کا تعارض دور کرنے کیلئے جواب دیا جاتا ہے تو پھر اس صورت میں یہ اعتقاد ہونا چاہئے کہ مثلاً پہلی دفعہ کی معراج کے وقت میں نمازیں پچاس فرض کی گئیں اور ان پچاس میں تخفیف کرانے کیلئے کئی مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے موسیٰ اور اپنے رب میں آمد و رفت کی۔ یہاں تک کہ پچاس نماز سے تخفیف کراکر پانچ منظور کرائیں۔ اور خداتعالیٰ نے کہہ دیا کہ اب ہمیشہ کیلئے غیر مبدل یہ حکم ہے کہ نمازیں پانچ مقرر ہوئیں اور قرآن پانچ کیلئے نازل ہوگیا پھر دوسری دفعہ کی معراج میں یہی جھگڑا پھر ازسرنو پیش آگیا کہ خداتعالیٰ نے پھر نمازیں پچاس مقرر کیں اور قرآن میں جو حکم وارد ہوچکا تھا اس کا کچھ بھی لحاظ نہ رکھا اور منسوخ کردیا مگر پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے پہلی دفعہ کے معراج کی طرح پچاس نمازوں میں کچھ تخفیف کرانے کی غرض سے کئی دفعہ حضرت موسیٰ ؑ اور اپنے رب میں آمد ورفت کرکے نمازیں پانچ مقرر کرائیں اور جناب الٰہی سے ہمیشہ کیلئے یہ منظوری ہوگئی کہ نمازیں پانچ پڑھا کریں اور قرآن میں یہ حکم غیر متبدل قرار پاگیا لیکن پھر تیسری دفعہ کے معراج میں وہی پہلی مصیبت پھر پیش آگئی اور نمازیں پچاس مقرر کی گئیں اور قرآن کریم کی آیتیں جو غیر متبدل تھیں منسوخ کی گئیں پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے بہت سی دقت اور بار بار کی آمد ورفت سے پانچ نمازیں منظور کرائیں مگر منسوخ شدہ آیتوں کے بعد پھر کوئی نئی آیت نازل نہ ہوئی!!! اب کیا یہ سمجھ میں آسکتا ہے کہ خداتعالیٰ ایک دفعہ تخفیف کرکے پھر پانچ سے پچاس نمازیں بنادے اور پھر تخفیف کرے اور پھر پچاس کی پانچ ہوجائیں ! اور بار بار قرآن کی آیتیں منسوخ کی جائیں اور حسب منشاء ۱؂ اور کوئی آیت ناسخ نازل نہ ہو! درحقیقت ایسا خیال کرنا وحی الٰہی کے ساتھ ایک بازی ہے! جن لوگوں نے ایسا خیال کیا تھا انکا مدعا یہ تھا کہ کسی طرح تعارض دورہو لیکن ایسی تاویلوں سے ہرگز تعارض دور نہیں ہوسکتا بلکہ اور بھی اعتراضات کا ذخیرہ بڑھتا ہے ایسا ہی اور کئی حدیثوں میں تعارض ہے۔ قولہ۔ آپ لکھتے ہیں کہ احادیث کے دو حصے ہیں اول وہ حصہ جو تعامل میں آچکا ہے جس میں وہ تمام ضروریات دین ا ورعبادات اور معاملات اور احکام شرع داخل ہیں دوسرا وہ حصہ جو تعامل سے تعلق نہیں رکھتا یہ حصہ یقینی طور پر صحیح نہیں ہے اور اگر قرآن سے مخالف نہ ہو تو صحیح تسلیم ہوسکتا ہے اس قول سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ فن حدیث اور اصول روایات اور قوانین درایت سے محض ناواقف ہیں اور مسائل اسلامیہ سے ناآشنا۔