میرؔ ے نمبر پنجم کے صفحہ ۳ میں یہ عبارت ہے کہ جس قدر حدیثیں تعامل کے سلسلہ سے فیض یاب ہیں وہ حسب استفاضہ اور بقدر اپنی فیض یابی کے یقین کے درجہ تک پہنچتے ہیں یعنی کوئی ان میں سے اول درجہ کے یقین پر پہنچ جاتی ہے اور کوئی اوسط تک اور کوئی ادنیٰ تک جس کو ظن غالب کہتے ہیں لیکن وہ تمام حدیثیں بغیر اس کے کہ محک قرآن سے آزمائی جائیں بوجہ جمع ہونے دونوں قوتوں تعامل اور صحت روایت کے اطمینان کے لائق ہیں۔مگر ایسی احاد حدیثیں جو سنن متوارثہ متعاملہ میں سے نہیں ہیں اور سلسلۂ تعامل سے کوئی معتدبہ تعلق نہیں رکھتیں وہ اس درجہ صحت سے گری ہوئی ہیں۔ اب ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ ایسی حدیثیں صرف اخبار گزشتہ و قصص ماضیہ یا آئندہ ہیں جن کو نسخ سے بھی کچھ تعلق نہیں یہ میرا وہ بیان ہے جو میں اس تحریر سے پہلے لکھ چکا ہوں یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنے کسی پرچہ میں ان دوسرے حصہ کی احادیث کا نام سنن متوارثہ متعاملہ نہیں رکھا بلکہ ابتدائے تحریر سے ہر جگہ حدیث کے نام سے یاد کیا جس سے میری مراد واقعات ماضیہ و اخبار گزشتہ یا آئندہ تھیں اور ظاہر ہے کہ سنن متوارثہ متعاملہ اور احکام متداولہ کے نکالنے کے بعد جو احادیث بکلی فرضیت تعامل سے باہر رہ جاتے ہیں وہ یہی واقعات و اخبارو قصص ہیں جو تعامل کے تاکیدی سلسلہ سے باہر ہیں اور ایک نادان بھی سمجھ سکتا ہے کہ یہ بحث احکام کے اختلافات کی وجہ سے شروع نہیں کی گئی۔ اور میں تمام مسلمانوں کو یقین دلاتا ہوں کہ مجھے کسی ایک حکم میں بھی دوسرے مسلمانوں سے علیحدگی نہیں جس طرح سارے اہل اسلام احکام بینہ قرآن کریم و احادیث صحیحہ و قیاسات مسلمہ مجتہدین کو واجب العمل جانتے ہیں اسی طرح میں بھی جانتا ہوں۔ صرف بعض اخبار گزشتہ و مستقبلہ کی نسبت الہام الٰہی کی وجہ سے جس کو میں نے قرآن سے بکلی مطابق پایا ہے بعض اخبار حدیثیہ کے میں اس طرح پر معنی نہیں کرتا جو حال کے علماء کرتے ہیں کیونکہ ایسے معنے کرنے سے وہ احادیث نہ صرف قرآن کریم کے مخالف ٹھہرتی ہیں بلکہ دوسری احادیث کی بھی جو صحت میں ان کے برابر ہیں مغائر و مبائن قرار پاتی ہیں۔ سو دراصل یہ تمام بحث ان اخبار سے متعلق ہے جن کی نسخ کی نسبت کوئی سلف و خلف میں سے قائل نہیں۔ کوئی باسمجھ انسان ایسا نہیں جس کا یہ عقیدہ ہو کہ قرآن کریم کی وہ آیتیں جن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا ذکر ہے حدیثوں سے منسوخ ہوچکی ہیں۔ یا یہ عقیدہ ہو کہ حدیثیں اپنی صحت میں ان سے بڑھ کر ہیں۔ بلکہ اس راہ میں بحالت انکار بجز اس طریق کے مجال کلام نہیں کہ یہ کہا جائے کہ وہ آیتیں پیش کرو ہم حدیثوں سے مطابق کردیں گے سوائے حضرت مولوی صاحب آپ ناراض نہ ہوں۔