کاشؔ آپ نے دیانت و امانت کو مدنظر رکھ کر وہی طریق مقصود اختیار کیا ہوتا! کیا آپ کو معلوم نہیں تھا کہ جو احادیث تعامل کے سلسلہ میں داخل ہوں ان کو میں بحث متنازع فیہ سے باہر کرچکا ہوں؟ اور اگر معلوم تھا تو پھر کیوں آپ نے گدھے کے حرام ہونے کی حدیث پیش کی؟ کیا کسی چیز کا حرام یا حلال کرنا احکام میں سے نہیں؟ اور کیا احکام اکل و شرب کے تعامل الناس سے باہر ہیں؟ اور پھر آپ نے *** علی الواشمات والمستوشمات کی بھی حدیث پیش کردی اور آپکو کچھ خیال نہ آیا کہ یہ تو سب احکام ہیں جن کیلئے تعامل کے سلسلہ کے نیچے داخل ہونا ضروری ہے! آپ سچ کہیں کہ ان تمام غیر متعلق باتوں سے آپ نے اپنا اور سامعین کا وقت ضائع کیا یاکچھ اور کیا؟ لوگ منتظر تھے کہ اصل بحث کے سننے سے جس کا ایک دنیا میں شور پڑگیا ہے فائدہ اٹھاویں اور حق اور ناحق کا فیصلہ ہو لیکن آپ نے نکمی اور فضول اور بے تعلق باتیں شروع کردیں شاید ان باتوں سے وہ لوگ بہت خوش ہوئے ہونگے جن میں اصل مقصود کی شناخت کرنے کا مادہ نہیں لیکن میں سنتا ہوں کہ حقیقت شناس لوگ آپ کی اس تقریر سے سخت ناراض ہوئے اور آپ کی مناظرانہ لیاقت کا مادہ انہوں نے معلوم کر لیا کہ کہاں تک ہے بہرحال چونکہ آپ اپنے اس دھوکہ دینے والے مضمون کو ایک جلسہ عام میں سنا چکے ہیں اسلئے میں مواضع مناسبہ سے آپ کے اقوال قولہ۔ اقول کے طرز پر ذیل میں بیان کرتا ہوں تا منصفین پر کھل جائے کہ کہاں تک آپ نے دیانت ورا ستی و تہذیب اور طریق مناظرہ کا التزام کیا ہے۔ وباللہ التوفیق۔ قولہ۔آپ نے میرے سوال کا جواب صاف اور قطعی نہیں دیا کہ احادیث جملہ صحیح ہیں یا جملہ موضوع یا مختلط۔ اقول۔ حضرت میں آپ کو کئی دفعہ جواب دے چکا ہوں کہ حصہ دوم احادیث کا جو تعامل کے سلسلہ سے یا یوں کہو کہ سنن متوارثہ متعاملہ سے باہر ہے صرف ظن کے درجہ پر ہے اور یہی میرا مذہب ہے اور چونکہ اس حصہ سے جو اخبار گزشتہ یا مستقلہ کی قسم میں سے ہے نسخ بھی متعلق نہیں اس لئے در حالت مخالفت نصوص بینہ قرآن قابل تسلیم نہیں۔ اگر کوئی ایسی حدیث نص قطعی بین قرآن سے مخالف ہوگی تو قابل تاویل ہوگی یا موضوع قرار پائے گی۔ قولہ ۔ صحیح بخاری و مسلم میں ایسی کوئی حدیث ہے جو بوجہ تعارض موضوع ٹھہر سکتی ہے؟ اقول۔ بے شک حصہ دوم کے متعلق ایسی حدیثیں ہیں جن میں سخت تعارض پایا جاتا ہے جیسا کہ وہی حدیثیں جو نزول ابن مریم کے متعلق ہیں کیونکہ قرآن قطعی طور پر فیصلہ دیتا ہے کہ مسیح ابن مریم فوت ہوگیا ہے اور صحیحین کی بعض حدیثیں بھی اس فیصلہ پر شاہد ناطق ہیں اور ایک گروہ صحابہ اور علماء امت کا بھی قرناً بعد قرنٍ اسی بات کا مقرّ ہے اور نصاریٰ کا یونی ٹیرین فرقہ بھی اسی بات کا قائل ہے اور یہودیوں کابھی یہی