اپنیؔ تعلیم میں کامل ہے اور کوئی صداقت اس سے باہر نہیں کیونکہ اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے۔ ۱ یعنی ہم نے تیرے پر وہ کتاب اتاری ہے جس میں ہر ایک چیز کا بیان ہے اور پھر فرماتا ہے ۲ یعنی ہم نے اس کتاب سے کوئی چیز باہر نہیں رکھی لیکن ساتھ اس کے یہ بھی میرا اعتقاد ہے کہ قرآن کریم سے تمام مسائل دینیہ کا استخراج و استنباط کرنا اور اس کی مجملات کی تفاصیل صحیحہ پر حسب منشاء الٰہی قادر ہونا ہر ایک مجتہد اور مولوی کا کام نہیں بلکہ یہ خاص طور پر ان کا کام ہے جو وحی الٰہی سے بطور نبوت یا بطور ولایت عظمیٰ مدد دیئے گئے ہوں۔ سو ایسے لوگوں کیلئے جو استخراج و استنباط معارف قرآنی پر بعلت غیر ملہم ہونے کے قادر نہیں ہوسکتے یہی سیدھی راہ ہے کہ وہ بغیر قصد استخراج و استنباط قرآن کے ان تمام تعلیمات کو جو سنن متوارثہ متعاملہ کے ذریعہ سے ملی ہیں بلاتامل و توقف قبول کر لیں۔ اور جو لوگ وحی ولایت عظمیٰ کی روشنی سے منور ہیں اور الاالمطہرون کے گروہ میں داخل ہیں ان سے بلاشبہ عادت اللہ یہی ہے کہ وہ وقتاً فوقتاً د قائق مخفیہ قرآن کے ان پر کھولتا رہتا ہے اور یہ بات ان پر ثابت کردیتا ہے کہ کوئی زائد تعلیم آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے ہرگز نہیں دی۔ بلکہ احادیث صحیحہ میں مجملات و اشارات قرآن کریم کی تفصیل ہے سو اس معرفت کے پانے سے اعجاز قرآن کریم ان پر کھل جاتا ہے اور نیز ان آیات بینات کی سچائی ان پر روشن ہوجاتی ہے جو اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے جو قرآن کریم سے کوئی چیز باہر نہیں۔اگرچہ علماء ظاہر بھی ایک قبض کی حالت کے ساتھ ان آیات پر ایمان لاتے ہیں تا ان کی تکذیب لازم نہ آوے۔ لیکن وہ کامل یقین اور سکینت اور اطمینان جو ملہم کامل کو بعد معائنہ مطابقت و موافقت احادیث صحیحہ اور قرآن کریم اور بعد معلوم کرنے اس احاطہ تام کے جو درحقیقت قرآن کو تمام احادیث پر ہے ملتی ہے وہ علماء ظاہر کو کسی طرح نہیں مل سکتی۔ بلکہ بعض تو قرآن کریم کو ناقص و ناتمام خیال کر بیٹھتے ہیں اور جن غیر محدود صداقتوں اور حقائق اور معارف پر قرآن کریم کے دائمی اور تمام تر اعجاز کی بنیاد ہے اس سے وہ منکر ہیں اور نہ صرف منکر بلکہ اپنے انکار کی وجہ سے ان تمام آیات بینات کو جھٹلاتے ہیں جن میں صاف صاف اللہ جلّ شانہٗ نے فرمایا ہے کہ قرآن جمیع تعلیمات دینیہ کا جامع ہے !!!
اب ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ میں نے سنن متوارثہ متعاملہ کو اپنے پرچہ نمبر پنجم و چہارم میں ایک علیحدہ حصہ بتصریح بیان کردیا ہے اور میرے نمبر پنجم کے پڑھنے سے ظاہر ہوگا کہ میں نے ان سنن متوارثہ متعاملہ کو ایک ہی درجہ یقین پر قرار نہیں دیا بلکہ میں ان کے مراتب متفاوتہ کا قائل ہوں جیسا کہ