مرؔ زاصاحب بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نحمدہٗ و نصلّی علٰی رسولہٖ الکریم حضرت مولوی صاحب میں نہایت افسوس سے تحریر کرتا ہوں کہ جس سوال کے جواب کو میں کئی دفعہ آپ کی خدمت میں گذارش کرچکا ہوں وہی سوال آپ بار بار بہت سی غیر متعلق باتوں کے ساتھ پیش کررہے ہیں۔ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اچھی طرح میری تحریرات پر غور بھی نہیں کی اور نہ میری کلام کو سمجھا اسی وجہ سے آپ ان امور کا بھی الزام میرے پر لگاتے ہیں جن کا میں قائل نہیں لہٰذا میں مناسب سمجھتا ہوں کہ برعایت اختصار پھر آپ کو اپنے عقیدہ اور مذہب سے جو حدیثوں کے بارہ میںَ میں رکھتا ہوں اطلاع دوں۔ سو مہربان من آپ پر ظاہر ہو کہ میں اپنی تحریر نمبر چہارم و پنجم میں بہ تفصیل و تصریح بیان کرچکا ہوں کہ احادیث کے دو حصے ہیں ایک وہ حصہ جو سلسلہ تعامل کے پناہ میں آگیا ہے یعنی وہ حدیثیں جن کو تعامل کے محکم اور قوی اور لاریب سلسلہ نے قوت دی ہے۔ اور دوسرا وہ حصہ ہے جن کو سلسلہ تعامل سے کچھ تعلق اور رشتہ نہیں اور صرف راویوں کے سہارے اور ان کی راست گوئی کے اعتبار پر قبول کی گئی ہیں سو اگرچہ میں صحیحین کی حدیثیں اس قوت اور مرتبہ پر نہیں سمجھتا کہ باوجود مخالفت آیات صریحہ و بینہ قرآن ان کو صحیح سمجھ سکوں۔ لیکن سلسلہ تعامل کی حدیثیں میری اس شرط سے باہر ہیں چنانچہ میں اپنی تحریر کے نمبر پنجم میں بتصریح لکھ چکا ہوں اگر سلسلہ تعامل کی حدیثوں کے روسے کسی حدیث کا مضمون قرآن کے کسی خاص حکم سے بظاہر مغائر معلوم ہو تو میں اس کو تسلیم کرسکتا ہوں کیونکہ سلسلہ تعامل کی حدیثیں حجت قوی ہیں اور قرآن کو معیار ٹھہرانے سے سلسلہ تعامل کی حدیثیں مستثنیٰ ہیں دیکھو تحریر نمبر پنجم بجواب آپ کی تحریر کے۔ آپ میری تحریر نمبر پنجم کے پڑھنے کے بعد اگر فہم اور تدبر سے کام لیتے تو بیہودہ اور غیر متعلق باتوں سے اپنی تحریر کو طول نہ دیتے میں نے کب اور کہاں یہ اعتقاد ظاہر کیا ہے کہ سنت متوارثہ متعاملہ اور حدیث مجرد دونو اس بات کی محتاج ہیں کہ قرآن کریم سے اپنی تحقیق صحت کیلئے پرکھی جائیں بلکہ میں تو نمبر مذکور میں صاف طور پر لکھ چکا کہ سلسلہ تعامل کی حدیثیں بحث مانحن فیہ سے خارج ہیں۔ اب مکرر آواز بلند کے ساتھ آپ پر کھولتا ہوں کہ سلسلۂ تعامل کی حدیثیں یعنی سنن متوارثہ متعاملہ جو عاملین اور آمرین کے زیرنظر چلی آئی ہیں اور علیٰ قدر مراتب تاکید مسلمانوں کی عملیات دین میں قرناً بعد قرنٍ وعصراً بعد عصرٍ داخل رہی ہیں وہ ہرگز میری آویزش کا مورد نہیں اور نہ قرآن کریم کو انکا معیار ٹھہرانے کی ضرورت ہے اور اگر انکے ذریعہ سے کچھ زیادت تعلیم قرآن پر ہوتو اس سے مجھے انکار نہیں۔ ہر چند میرا مذہب یہی ہے کہ قرآن