حدؔ یث(متعلق قصص۔ ایام و اخبار) ہو کہ قرآن کریم کے سخت مخالف پڑی ہو تو وہ کتاب اللہ کو بہمہ وجوہ واجب الادب واجب التعظیم اور واجب التفضیل سمجھ کر اس حدیث کی صحت سے انکار کرتے ہیں۔ اور ٹھیک حضرت صدیقہؓ کی طرح جیسا کہ انہوں نے اس روایت کو اِنَّ الْمَیِّتَ یُعَذَّبُ بِبُکَاءِ اَھْلِہٖ قرآن کریم کی آیت لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرَىٰؕ ۱ کے مقابلہ میں رد کردیا تھا۔ حضرت اقدس مرزا صاحب(جن کا اصلی مشن اور منصبی فرض قرآن مجید کی عظمت کا دنیا میں قائم کرنا اور اسی کی تعلیم کا پھیلانا ہے) بھی ایسی مخالف و معارض قرآن حدیثوں کو(اگر ہوں اور پھر جس کتاب میں ہوں) قرآن کے مقابلہ میں بلاخوف لومۃ لائم کے رد کردیتے ہیں۔
اے ناظرین۔اے ناظرین۔ اے عاشقان کتاب رب العٰلمین! للہ سوچو! اس اعتقاد میں کیا قباحت ہے! اس پر یہ کیسا ناشدنی ہنگامہ ہے جو ابنائے روزگار نے مچا رکھا ہے! لوگ کہتے ہیں کہ فیصلہ نہیں ہوا۔ گو بالصراحت چونکہ اس اصل متنازع فیہ مسائل میں گفتگو نہیں ہوئی نہ کہا جاسکے کہ بین فیصلہ ہوا مگر مرزا صاحب کے جوابات کے پڑھنے والوں پر پوری وضاحت سے کھل جائے گا کہ احادیث کی دو قسمیں کر کے دوسری قسم کی حدیثوں کو جو تعامل کی قوت سے تقویت یافتہ نہ ہوں اور پھر قرآن کریم سے معارضہ کرتی ہوں حضرت مرزا صاحب نے تردید کرکے درحقیقت امر متنازع فیہ کا قطعی فیصلہ کردیا ہے۔ گویا صاف سمجھا دیا ہے کہ قرآن مجید صریح منطوق سے حضرت مسیح کی موت کی خبر دیتا ہے اور یہ ایک واقعہ ہے۔ اب اگر کوئی حدیث نزول ابن مریم کی خبر دیتی ہو تو لا محالہ یہی سمجھا جائے گا کہ وہ کسی مثیل مسیح کی خبر دیتی ہے اور اگر اس میں کوئی ایسا پہلو ہوگا جو بوجہ من الوجوہ قرآن سے تطبیق نہ دیا جاسکے تو وہ ضرور ضرور ردّ کی جائے گی۔ پس بہرحال قرآن کریم اکیلا بلا کسی منازع و حریف کے میدان اثبات دعویٰ میں کھڑا رہا اور حق بھی یہی ہے کہ وہ تنہا بلا کسی مد مقابل کے اپنی نصوص کی صداقت ثابت کرنے والا ہو اور کسی کتاب کسی نوشتہ اور کسی مجموعہ کی کیا طاقت کیا مجال ہے کہ اس کے دعاوی کو توڑنے کا دم مارسکے۔ اور یہی مرزا صاحب کا مدعا ہے۔ سو دراصل وہ فیصلہ دے چکے اور کرچکے ہیں۔ ہمارا ارادہ تھا کہ مولوی ابو سعید صاحب کے اشتہار لودیانہ مورخہ یکم اگست کی ان باتوں پر توجہ کرتے جن کے جواب کی تحریر کا
۱ فاطر : ۱۹