وپیرؔ ایہ میں آپ نے فرمایا ہو اشارۃً ہوتو اشارۃً صراحۃً ہوتو صراحۃً آنحضرت نے فرمایا۔ اتقوا عنی الا ماعلمتم فمن کذب علی متعمدا فلیتبوء مقعدہ من النارآپ کی کتب حدیث میں اگر نظر ہوتو آپکو معلوم ہو کہ آنحضرت کے اصحاب آپ سے کوئی ایسا لفظ نقل نہ کرتے جو آپ نے نہ فرمایا ہوتا اور اگر ان کو اصل لفظ حضرت رسالت میں شک واقع ہوجاتا تو شک و تردد کے ساتھ الفاظ بیان کرتے آپ نے باوجودیکہ آپ کو یہ علم نہ تھا کہ آنحضر ت صلعم نے وہ الفاظ فرمائے ہیں جو آپ نے نقل کئے ہیں اور اب تک اس کا علم پر یقین نہیں صرف خیالی احتمال ہے پھر آپ نے اس لفظ کو آنحضرت کی طرف منسوب کیا تو بجز افتراعمدی اور کیا ہوسکتا ہے۔ آنحضرت کے ابن صیاد کے ڈرنے کو احتمالی کون کہتا ہے۔ وہ ہمیشہ اس سے اور اصحاب اس امر کو ملاحظہ کرتے تب ہی ایک صحابی نے یہ کہہ دیا کہ ہمیشہ آنحضرت ڈرتے تھے لفظ ہمیشہ(مالم یزل) کو یہ لازم نہیں ہے کہ آپ زبان سے بھی یہ فرما دیا کرتے کہ میں ڈرتا ہوں۔ پہلے انبیاء اور آنحضرت صلعم اجمعین نے بے شک دجال موعود سے ڈرایا ہے مگر اس سے یہ نکالنا کہ آپ نے ابن صیاد کو دجال کہہ کر ڈرایا ہے آنحضرت پر ایک اور افترا ہے دجال سے ڈرانا ابن صیاد سے ڈرانا نہیں ہے خدا سے ڈرو آنحضرت پر افترا نہ کرتے جاؤ۔ تیاری دہلی کی مثال میں آپ نے مسلمانوں کو دھوکہ دیا ہے ایک شخص کو دس برس سے اگر کوئی دیکھے کہ وہ وقتاً فوقتاً دہلی کا ٹکٹ خرید کر واپس کر آتا ہے اور ایسی حالت میں آخری برس تک وہ رہا ہے تو اس کی نسبت یہ کہہ سکتا ہے کہ وہ دس برس سے تیار ہے۔ گو تیاری کا حرف کبھی زبان پر نہ لاوے ہم سے ایک اور مثال سنیئے ایک شخص مدت العمر نمازوں اور دعاؤں میں زاری کرتا رہے احکام شریعت کا پابند ہو خدا کا اور بندوں کا حق تلف نہ کرے اس کی نسبت کس و ناکس بشرطیکہ فاتر الحواس نہ ہو یہ کہہ سکتا ہے اور سمجھ سکتا ہے کہ وہ خدا سے ڈرتا ہے گو وہ منہ سے کبھی نہ کہے کہ میں خدا سے ڈرتا ہوں۔ ایک احتمال کے مقابل دوسرا احتمال ہوتو مدعی کو اس سے استدلال درست نہیں ہے اس کے خصم منکر کو پہنچتا ہے کہ وہ اس احتمال سے تمسک کرکے بحکم اذاجاء الاحتمال بطل الاستدلال۔ مدعی کے استدلال کو توڑ دے۔ آپ اس امر سے ناواقف ہیں تب ہی مدعی ہوکر احتمال سے استدلال کرتے ہیں۔ افترا آپکی قدیم سنت ۱؂ہے ان افتراؤں کے علاوہ جو ثابت کئے گئے ہیں آپ نے رسالہ ازالہ کے صفحہ ۲۰۱ ۱؂ کیا اسی وقت سے جب کہ آپ نے ان کو ولی اللہ۔ ملہم۔ مجدد اور محدث مانا اور ان کی بے مثل کتاب البراہین کی اخص