)انہوؔ ں نے بالفرض ظاہر کیا ہو خواہ دل میں رکھا ہو) ابن صیاد دجال موعود ہے روک دیا اور بناءً علیہ اس کے قتل سے منع کردیا۔ اس قول نبوی کے کتب احادیث میں موجود ہونے کے ساتھ یہ کہنا کہ آنحضرت نے حضرت عمر کے ابن صیاد کو دجال موعود کہنے یا سمجھنے پر سکوت کیا اسی شخص کا کام ہے جس کو حدیث بلکہ کسی شخص کا کلام سمجھنے سے کوئی تعلق نہ ہو۔ اس بیان سے صاف ثابت ہے کہ آپ نے جو کچھ اس باب میں لکھا ہے وہ فن حدیث اصول فقہ علم معانی و بیان و ادب وغیرہ سے ناواقفی پر مبنی ہے۔ (۸) آپ لکھتے ہیں کہ کسی کو کسی بات کا قائل ٹھہرانا تصریح پر موقوف نہیں اس امر کی نسبت اس کے اشارات پائے جانے سے بھی اس کو قائل بنایا جاتا ہے۔ آنحضرت کا ایک مدت طویل تک ابن صیاد کے دجال ہونے سے ڈرتے رہنا احتمال امر نہیں۔ آنحضرت نے زبان سے ڈر سنایا ہوگا تب ہی صحابی نے لم یزل کا لفظ فرمایا آنحضرتؐ اور سبھی انبیاء ؑ دجال سے ڈراتے آئے ہیں۔ ایک شخص کا دس برس سے دہلی کی طیاری کرنا کوئی بیان کرے تو اس سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اس شخص نے دہلی جانے کا ارادہ کبھی زبان سے بتایا ہوگا۔ اور اگر یہی احتمال مسلم ہو کہ آنحضرت کے حالات سے ان کا ڈرنا صحابی نے اس کا ڈرنا سمجھ لیا تھا تو یہ بھی احتمال ہے کہ زبان سے سنا ہو اور لفظ لم یزل سے یہ احتمال قوی ہوتا ہے۔ اس صورت میں آپ کا مجھ کو مفتری کہنا بے جا ہے۔ اس سے آپ کا افتراء سابق اور پختہ و متیقن ہوتا ہے اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ آپ نے جو پہلے کہا تھا وہ خطاءً نہیں کہا عمداً افتراء کیا ہے اور اس پر آپ کو اب تک ایسا اصرار ہے کہ جتانے سے بھی باز نہیں آتے اور اپنی غلطی کا اعتراف نہیں کرتے محدثین نے بیان کیا ہے کہ جو شخص ر وایت حدیث میں غلطی پر متنبہ کیا جاوے اور پھر اس سے باز نہ آئے وہ ساقط العدالت ہوجاتا ہے۔ آپ کا یہ کہنا کہ اشارات سے بھی ایک شخص کو ایک امر کا قائل بنایا جاتا ہے تب آپ کے حق میں مفید ہو جب کہ صحابی آنحضرت کو اس قول کا قائل بناتا جس کا قائل آنحضرت کو آپ نے بنادیا ہے صحابی نے آنحضرت کو قائل قول مذکور نہیں بنایا بلکہ اپنا خیال بیان کیا ہے تو پھر اس کہنے سے آپ کو کیا فائدہ ہے کہ اشارات سے بھی قائل بنایا جاتا ہے آنحضرت کی طرف کسی قول کو منسوب کرنا اسی صورت و پیرایہ میں حلال ہے جس صورت