میںؔ حدیث کیف انتم اذانزل ابن مریم فیکم وامامکم منکم کا ترجمہ کیا تو اس میں اس سوال و جواب کا رسول اللہ صلعم پر افترا کیا ہے کہ ابن مریم کون ہے وہ تمہارا ہی ایک امام ہوگا اور تم میں سے ہی(اے امتی لوگو) پیدا ہوگا۔ آپ نے عمداً رسول اللہ پر یہ افترا نہیں کیا تو بتائیں کس حدیث کے کس طریق یا وجہ میں یہ سوال و جواب وارد ہیں۔
رسالہ ازالہ کے صفحہ ۲۱۸ میں آپ نے دجال موعود کے محل نزول میں اختلاف علماء بیان کیا تو اس میں علماء اسلام پر یہ افترا کیا کہ بعض علماء کہتے ہیں کہ وہ نہ بیت المقدس میں اترے گا نہ دمشق میں بلکہ مسلمانوں کے لشکر میں اترے گا۔ آپ اس قول کے بیان میں مفتری نہیں تو بتادیں کہ کس عالم کا یہ قول ہے کہ وہ نہ بیت المقدس میں اتریں گے نہ دمشق میں۔
آپ کے ان افتراؤں سے کامل یقین ہوتا ہے کہ آپ کسی الہام کے دعو ٰی میں سچے نہیں اور جو تارو پود آپ نے پھیلا رکھا ہے سب افترا ہے۔
(۹) آپ لکھتے ہیں کہ آپ بخاری بخاری کرتے ہیں اور بخاری کی یہ حدیث اپنے رسالہ میں نقل کرچکے ہیں کہ محدث کی بات میں شیطان کا کچھ دخل نہیں ہوتا۔ بخاری پر آپ کا ایمان ہے تو اس حدیث کی تسلیم سے ابن عربی کا قول آپ کے نزدیک مسلم ہے پھر میں نے آپ پر کیا افترا کیا۔
اس میں آپ نے مجھ پر ایک اور افترا کیا اور مسلمانوں کو دھوکہ دیا۔ مہربان من میں صحیح بخاری کو تسلیم کرتا ہوں اور اس حدیث پر جو صحیح بخاری میں محدث کے شان میں مروی ہے میں ایمان رکھتا ہوں و مع ھٰذا یہ اعتقاد رکھتا ہوں کہ جو شخص محدث کہلاوے اور صحیح بخاری یا صحیح مسلم کی احادیث کو بشہادت الہام خود موضوع قرار دے وہ محدث نہیں ہے۔ شیطان کی طرف سے مخاطب ہے واقعی محدث و ملہم وہی شخص ہے جس کے تحدیث والہام قدیم قرآن مجید و احادیث صحیحہ کے مخالف نہ ہو اور جو شخص محدث یا ملہم ہونے کا دعو ٰی کرے اور اس کے ساتھ یہ کہے کہ مجھے فرشتوں نے کیا ہے یا خدا نے الہام کیا یارسول اللہ صلعم نے فرمایا ہے
برکات میں شامل ہونے کیلئے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی تھی؟ دیکھو ریویو براہین کا آخری حصہ شیخ صاحب بقول شیخ سعدیؒ بڑی سبک سری اور دنائت ہے:۔
’’باندک تغیر خاطر از مخدوم قدیم برگشتن و حقوق نعمت سالہا درنوشتن۔‘‘
شیخ صاحب ایسی ضد سے باز آجاؤ۔ ایڈیٹر