النبوؔ ت ویضلون الناس ویلبسون علیھم اس پر شاید آپ یہ اعتراض کریں کہ جابر کے قول ابن صیاد الدجال میں جو حضرت عمر کی طرف بھی منسوب ہوا ہے لفظ دجال پر الف ولام بتارہا ہے کہ دجال سے ان کی مراد خاص دجال ہے نہ کہ کوئی دجال اور علماء معنے و بیان نے کہا ہے کہ خبر معرف بلام ہوتو اس کا مبتدا میں قصر ہوتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ اگر دجال سے آخری دجال مراد نہ لیں بلکہ منجملہ تیس۳۰ دجال کے ایک دجال مراد ٹھہرائیں تو اس صورت میں بھی خاص دجال کی طرف الف ولام کا اشارہ ہوسکتا ہے۔ رہا جواب قصر سو یہ ہے کہ خبر معرف بلام مقدم ہو جیسا کہ ابن عمر کے قول المسیح الدجال ابن صیاد میں ہو تو بے شک و بلااختلاف خبر کا مبتدا پر قصر ہوتا ہے مگر درصورتیکہ خبر موخر ہو تو اس کا مفید قصر ہونا محل اختلاف ہے۔ صاحب کشاف نے فایق میں اس سے انکار کیا ہے۔ چنانچہ فاضل عبدالحکیم سیالکوٹی نے مطول کے حاشیہ میں کہا ہے قال مال صاحب الکشاف الی التفرقۃ بینھما حیث ذکر فی الفائق ان قولک اللہ ھو الدھر معناہ انہ الجالب للحوادث لاغیر الجالب و قولک الدھر ھو اللہ معناہ ان الجالب للحوادث ھواللہ لاغیرہ۔ بناءً علیہ لام الدجال سے قصر ثابت نہیں ہوتا۔ لام کو عہدی کہو یا جنسی اور قول جابرؓ یا حضرت عمر کے معنے یہ بنتے ہیں کہ ابن صیاد دجال ہے نہ کچھ* اور یہ معنے نہیں ہیں کہ دجال وہی ہے نہ کوئی اور مگر ان باتوں کے سمجھنے کیلئے علم بیان و ادب و معانی میں دخل درکار ہے جس سے آپ اس احتمال کو کہ حضرت عمر نے دجال سے تیس۳۰ دجالوں میں سے ایک دجال مراد رکھا تھا کسی دلیل سے الٹا دیں اور ان کے صریح الفاظ سے ثابت کریں کہ دجال سے ان کی مراد آخری دجال تھا تو پھر ہم اس کا جواب یہ دیں گے کہ آنحضرت صلعم نے حضرت عمر کو جب انہوں نے ابن صیاد کو قتل کرنا چاہا تھا یہ فرمایا تھا کہ ابن صیاد وہ دجال ہے تو تجھے اس کے قتل پر قدرت نہ ہوگی اس کے قاتل حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں چنانچہ صحیح مسلم میں ہے فقال عمر بن الخطاب ذرنی یارسول اللہ اضرب عنقہ فقال لہ رسول اللہ صلعم ان یکنہ فلن تسلط علیہ وان لم یکنہ فلا خیرلک فی قتلہ۔ابوداؤد کی روایت میں یوں آیا ہے ان یکن فلست صاحبہ انما صاحبہ عیسی ابن مریم وان لایکن ھوفلیس لک ان تقتل رجلا من اھل الذمۃ ا س قول آنحضرت صلعم سے صاف ثابت ہے کہ آنحضرت نے حضرت عمر کو اس خیال سے
* ناظرین ان تاویلات رکیکہ پر ذرا غور سے نظر ڈالنا۔ اس پر حضرت مرزا صاحب کا دعویٰ و تحدی ملاحظہ ہو۔ ایڈیٹر