قالؔ قلت کذبتنی واللہ لقد اخبرنی بعضکم انہ لایموت حتی یکون اکثر مالا وولدا فذالک ھو زعم الیوم یعنی حضرت ابن عمر نے کہ میں نے بعض لوگوں کو(جن سے ان کے معاصر اصحاب مراد ہیں) کہا کہ کیا تم کہتے ہو کہ ابن صیاد دجال ہے تو وہ بولے بخدا ہم نہیں کہتے میں نے کہا تم مجھے جھوٹا کرتے ہو بخدا تم ہی سے بعض نے مجھے یہ خبر دی ہے کہ دجال صاحب اولاد ہوکر مرے گا اور اب وہ(ابن صیاد) ایسا ہی صاحب اولاد ہے یہ قول ابن عمر اس امر پر نص صریح ہے کہ ابن صیاد کو اور لوگ حضرت ابن عمر کے معاصر دجال نہیں جانتے ہیں اور ان کے سامنے ان کی رائے سے خلاف ظاہر کرتے تھے۔ صرف حضرت ابن عمر ہی کا یہ ایسا قول تھا کہ جس میں ابن صیاد کو دجال موعود بلفظ مسیح الدجال کہا گیا ہے کیونکہ جابر و حضرت عمر کے قول سے یہ تصریح نہیں ہے کہ وہ دجال موعود ہے بلکہ انہوں نے ابن صیاد کو صرف دجال کہا ہے جس سے منجملہ تیس ۳۰دجالوں کے ایک دجال مراد ہوسکتا ہے۔ چنانچہ عنقریب اس کا ثبوت آتا ہے اور جب کہ حضرت ابن عمر کے صریح قول پر انکار مانا گیا ہے تو اس سے بڑھ کر خلاف کے تصریح آپ کیا چاہیں گے۔ آپ کے حواری حکیم نور الدین نے ہمارے سوال نمبر ی ۲۱ کے جواب میں اس اختلاف کو تسلیم کیا اور یہ کہا ہے کہ دجال کی نسبت مختلف خیال ہیں۔ آپ نے بڑا غضب ڈھایا کہ ابن صیاد کے دجال ہونے پر اجماع صحابہ کا دعویٰ کر لیا اپنے حواری سے تو مشورہ کر لیا ہوتا آخر میں جو آپ نے قول فاروقی پر آنحضرت صلعم کے سکوت کرنے کا دعویٰ کیا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت عمر نے جو آنحضرت کے سامنے ابن صیاد کو دجال کہا اور اس پر قسم کھائی تھی اس میں یہ تصریح نکمی ہے کہ ابن صیاد ہی وہ دجال ہے جس کے آنے کی آنحضرت نے علامات خاصہ بیان کر کے خبر دی تھی اور جملہ انبیاء سابقین نے اپنی امت کو ڈرایا تھا لہٰذا ممکن و محتمل۱؂ہے کہ حضرت عمر کے اس قول سے یہ مراد ہو کہ ابن صیاد منجملہ ان تیس۳۰ دجالوں کے ہے جن کے خروج کی آنحضرت نے خبرد ی ہے اس صورت میں آنحضرت کا سکوت آپ کیلئے کچھ مفید نہیں ہے کیونکہ یہ سکوت ابن صیاد آخری دجال کہنے پر نہ ہوا بلکہ کوئی اور دجال منجملہ دجاجلہ ملا علی قاری نے مرقاۃ شرح مشکٰوۃ میں کہا ہے۔ قیل لعل عمر اراد بذالک ان ابن صیاد من الدجالین الذین یخرجون فیدعون ۱؂ حاشیہ ناظرین! ممکن و محتمل کا لفظ قابل غورہے ! ایڈیٹر