کہؔ آپ کے نزدیک ان احادیث میں تعارض و تناقض متحقق ہے وبناءًً علیہ وہ احادیث آپ کے نزدیک موضوع ہیں۔ ہاں آپ نے ان احادیث میں کچھ کچھ تاویلیں بھی کی ہیں جن سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ وہ تاویل بغرض صحت احادیث مذکورہ آپ کرتے ہیں آپ کے کلام سے صاف یہ مفہوم ہوتا ہے کہ وہ احادیث اول تو آپ کے نزدیک صحیح نہیں موضوع ہیں اور اگر بالفرض وہ صحیح مانی جائیں تو پھر وہ آپ کے نزدیک تاویلات سے مأول ہیں۔ یہ مطلب آپ کی ان عبارات ازالہ اوہام سے جو ہم پرچہ نمبر میں نقل کرچکے ہیں ان میں بلا شرط آپ نے ان احادیث کو موضوع کہا ہے صاف ثابت ہے۔ آپ اس کے خلاف کے مدعی اور اپنے دعویٰ حال میں سچے ہیں تو اس مضمون کی عبارت نقل کریں جس میں پہلے آپ نے قطعی اور صاف طور پر ان احادیث کو صحیح مان لیا ہو پھر اس بیان صحت کے بعد شرطیہ طور پر یہ کہا ہو کہ ان احادیث کی تاویل نہ کی جائے تو یہ موضوع ٹھہرتی ہیں۔ آپ اپنی کتاب سے یہ تصریح نکال دیں گے تو ہم آپ کو اس الزام سے کہ آپ نے صحیحین کی احادیث کو موضوع قرار دیا ہے بری کردیں گے۔ ورنہ کس و ناکس کو یقین ہوگا کہ درحقیقت آپ صحیح بخاری و مسلم کی حدیثوں کو موضوع ٹھہرا چکے ہیں۔ مگر آپ اتباع عوام اہل حدیث کے خوف سے ان کو موضوع کہنے سے انکار کرتے ہیں تاکہ وہ عوام آپ کو منکر احادیث نہ کہیں اور زمرہ اہل سنت سے خارج نہ کریں۔ (۷) آپ لکھتے ہیں میرے نزدیک اجماع کا لفظ اس حالت پر صادق آسکتا ہے کہ جب صحابہ میں سے مشاہیر صحابہ اپنی رائے کو شائع کریں اور دوسرے باوجود سننے کے اس رائے کی مخالفت ظاہر نہ فرماویں سو یہی اجماع ہے۔ پھر آپ فرماتے ہیں کہ ابن عمرؓ و جابرؓ نے ابن صیاد کو دجال کہا تو یہ امر باقی صحابہ سے پوشیدہ نہ رہا ہوگا۔ سو میرے نزدیک یہی اجماع ہے آپ کے نزدیک یہ اجماع نہیں تو آپ بتاویں کہ کس صحابی نے ابن صیاد کے دجال ہونے سے انکار کیا ہے۔ پھر آپ لکھتے ہیں کہ حضرت عمر کے ابن صیاد کو دجال کہنے پر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے سکوت کیا ہے اور یہ ہزار اجماع سے افضل ہے ان عبارات میں آپ نے میرے سوالات کانمبر۱ کہ یہ تعریف اجماع جو آپ نے لکھی ہے دیکھو! مولوی صاحب اللہ کے بندوں کو حقیر جاننا و خامت عاقبت کا موجب ہوا کرتا ہے جلا دو ان فضول کتابوں کی الماریوں کو جو حق شناسی کی راہ میں حجاب الاکبر بن رہی ہیں۔ ڈر جاؤ کہیں اس جماعت میں داخل نہ ہوجاؤ جن پر یحمل اسفارا بولا گیا ہے آخر ہمارا بھی یوم الدین پر اس کی جز او سزا پر ایمان ہے۔ ہم اپنے تئیں اللہ تعالیٰ کے حضور میں اپنے افعال و اعمال کا جواب دہ یقین کرتے ہیں۔ کوئی وجہ نہیں کہ آپ غرور و کبر سے مسلمانوں کو استحقار کی نظر سے دیکھیں ! اتقوااللّٰہ اتقوااللّٰہ ایھا المفرطون المعتدون! ایڈیٹر