وہ ؔ کس کتاب میں ہے۔ نمبر ۲ بعض صحابہ کے اتفاق کو کون اجماع کہتا ہے نمبر ۳ سکوت باقی صحابہ پر نقل صحیح کی کہاں شہادت پائی جاتی ہے اس کو نقل کریں غالباً اور ہوگا سے کام نہ لیں ۔کچھ جواب نہ دیا اور پھر اپنے خیالات سابقہ کو دوبارہ نقل کردیا جس سے صاف ثابت ہے کہ آپ علمی سوالات کو سمجھ نہیں سکتے اور مسائل متعلقہ اجماع سے واقف نہیں یا دیدہ ودانستہ مسلمانوں کو دھوکہ دہی کی غرض سے ان کے جو اب سے جو آپ کے دعاوی کے مبطل ہیں چشم پوشی کرتے ہیں اب میں ان سوالات کا پھر اعادہ نہیں کرتا کیونکہ میں آپ سے جواب ملنے کی امید نہیں رکھتا۔*اور بجائے اس کے آپ کی باتوں کا خود ایسا جواب دیتا ہوں جس سے ثابت ہو کہ آپ نے جو کچھ کہا ہے وہ آپ کی ناواقفی پر مبنی ہے اور وہ میرے سوالات کا جواب نہیں ہوسکتا۔ آپ نے پرچہ نمبر میں تین شخصوں کی جماعت کے اتفاق کو اجماع قرار دیا تھا جو محض غلط اور ناواقفی پر مبنی ہے علماء اسلام جو اجماع کے قائل ہیں اجماع کی تعریف یہ کرتے ہیں وہ ایک وقت کے جملہ مجتہدین کے جن میں ایک شخص بھی متفردو مخالف نہ ہو اتفاق کا نام ہے۔ توضیح میں ہے ھو اتفاق المجتھدین من امۃ محمد صلعم فی عصر علی حکم شرعی۔کتب اصول میں یہ بھی مصرح ہے کہ خلاف الواحد مانع یعنی ایک مجتہد بھی اہل اتفاق کا مخالف ہو تو پھر اجماع متحقق نہ ہوگا۔ مسلم الثبوت اور اس کی شرح فواتح الرحموت میں ہے۔ قیل اجماع الاکثرمع ندرۃ المخالف اجماع کغیرا بن عباس اجمعوا مایقول علی العول وغیرابی موسی الاشعری اجمعوا علی نقض النوم الوضوء وغیر ابی ھریرۃ وابن عمر اجمعوا علی جواز الصوم فی السفر والمختارانہ لیس باجماع لانتفاع الکل الذی ھو مناط العصمۃ اور نیز اس میں ہے لاینعقد الاجماع باھل البیت وحدھم لانھم بعض الامۃ خلافا للشیعۃ اور نیز اس میں ہے ولاینعقد بالخلفاء الاربعۃ خلافا لاحد الامام۔ سکوت باقی اصحاب سے آپ نے اجماع استنباط کیا ہے۔ مگر اس کا ثبوت نہیں دیا بلکہ الٹا ہم سے ثبوت مخالفت طلب کیا ہے یہ ثبوت پیش کرنا ہمارا فرض نہ تھا۔ مگر ہم آپ پر احسان کرتے ہیں۔ آپ کو سکوت کل کا ثبوت پیش کرنا معاف کر کے خود ثبوت خلاف پیش کرتے ہیں۔ پس واضح ہو کہ ابن صیاد کو