اورؔ دت فی ھذا الکتب من الاحادیث صحیح ولااقول ان ماترکت ضعیف۔
امام مسلم نے خود اپنی کتاب صحیح میں فرمایا ہے لیس کل شئ عندی صحیح وضعتہ ھنا یعنی فی کتاب الصحیح وانما وضعت ھھناما اجمعوا علیہ آپ دل میں سو چ کر انصاف سے کہیں کہ امام بخاری یا خود امام مسلم کی کسی حدیث کی روایت کو ترک کرنے سے یہ کہاں لازم آتا ہے کہ وہ حدیث ان کے نزدیک صحیح نہ ہو۔آپ اٹکل پچو ایسی باتیں کہہ کر یہ ظاہر کررہے ہیں کہ فن حدیث سے آپ کو کوئی تعلق اور کچھ مس نہیں اس الزام دھوکہ دہی و ناواقفی کو آپ مانیں خواہ نہ مانیں آپ کے کلام سے یہ تو ثابت ہوتا ہے جس کے ماننے سے آپ کو بھی انکار نہیں کہ حدیث دمشقی صحیح مسلم کو آپ نے اپنے اجتہاد سے ضعیف قرار دیا ہے اورآپ کے اعتقاد مخفی توہیں۔ صحیحین کے اظہار کیلئے اس مقام میں اسی قدر بس ہے۔
اہل حدیث* جو آپ کے پنجہ میں گرفتار ہیں آپ کے اس قول وا قرار سے یقین کریں گے کہ آپ حدیث صحیح مسلم کو ضعیف قرار دیتے ہیں اور اس پر جو فتویٰ لگائیں گے وہ مخفی نہیں ہے۔
(۶) آپ لکھتے ہیں کہ ازالۃ الاوہام میں احادیث صحیح بخاری و صحیح مسلم کی نسبت میں نے یہ قطعی فیصلہ نہیں دیا کہ وہ موضوع ہیں بلکہ شرطیہ طور پر کہا ہے کہ اگر ان کے باہمی تناقض کو دور نہ کیا جائے گا تو ایک جانب کی حدیثوں کو موضوع ماننا پڑے گا۔ یہ آپ کی محض حیلہ سازی ہے۔ جس مقام میں آپ نے ان حدیثوں کو موضوع کہا وہاں شرط تناقض بیان نہیں کی بلکہ بڑے زور سے پہلے ان کا تعارض ثابت کیا ہے پھر ان پر موضوع ہونے کا حکم لگادیا ہے جس سے صاف ثابت ہے
مولوی صاحب! عجب و پندار چھوڑدو۔ کبریا اللہ تعالیٰ کی چادر ہے۔ یہاں شیخی کام نہیں آسکتی۔ آپ کو اپنے خیالی علم نے پاتال کے تاریک اور گندھک کے کنوئیں میں ڈال رکھا ہے۔ آپ ان لوگوں کو بارہا حقارت سے یاد کرچکے جو حضرت مسیح موعود۔ مجدد۔محدث حضرت مرزا صاحب(سلمہ الرحمن) کی جناب میں عقیدت رکھتے ہیں ان کا حق ہے کہ آپ کو فوراً یہ سنائیں ۱ ’’پنجہ میں گرفتار ہیں‘‘ کیسا حقارت آمیز جملہ ہے! حضرت مسیح موعود کو اجلۃ الفضلا ء (مولانا رفیقی و انیسی مولوی نور الدین صاحب۔ حضرت مولوی محمد احسن صاحب بھوپالوی مولانا مولوی غلام نبی صاحب خوشابی وغیر ھم جن میں سے اکثر کی فہرست حضرت اقدس نے ازالہ اوہام کے آخر میں شائع کی ہے) مانتے ہیں۔ ان پر جان و دل سے فدا ہیں۔ بڑے بڑے خدا کے نیکوکار بندے متقی۔ صاحب تقو ٰی و انابت و خشیۃ و طہارت حضرت اقدس کو خلوص قلب سے خادم دین اللہ اعتقاد کرتے ہیں۔ ایک یہ خاکسار گنہگار عبدالکریم بھی ہے جو کتاب و سنت پر علیٰ بصیرت مطلع ہو کر حضرت ممدوح کو اپنا مخدوم و مرشد مانتا ہے۔