سےؔ یہ بھی منقول ہے کہ مجھے دو لاکھ حدیثیں غیر صحیح اور ایک لاکھ صحیح یاد ہیں۔ باوجودیکہ صحیح بخاری میں چار ہزار حدیثیں منقول ہیں جس سے ثابت ہے کہ چھیانویں ہزار حدیث اور امام بخاری کے نزدیک صحیح ہیں جن کو وہ اپنی کتاب میں نہیں لائے۔ وجملۃ ما فی الصحیح البخاری من الاحادیث المسندۃ سبعۃ الاف ومئتان و خمسۃ و سبعون حدیثا بالاحادیث المکررۃ و بحذف المکررۃ نحواربعۃ الا ف کذا ذکر النووی فی التھذیب والحافظ بن حجر فی مقدمۃ فتح الباری۔
شیخ عبدالحق نے مقدمہ شرح مشکوٰۃ میں کہا ہے ونقل عن البخاری انہ قال حفظت من الصحاح ماءۃ الف حدیث ومن غیر الصحاح مأ تی الف۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ امام بخاری کا کسی حدیث صحیح کی روایت کو ترک کرنا اس امر کا مثبت نہیں ہے کہ انہوں نے اس کو ضعیف قرار دیا۔ امام بخاری کا ترک روایت حدیث مسلم کیونکر موجب ضعف ہو۔ امام مسلم نے خود اپنی کتاب میں بہت سی احادیث کو جن کو وہ صحیح سمجھتے ہیں ذکر نہیں کیا۔ جیسا کہ مقدمہ شرح مشکٰوۃ میں ہے۔ قال مسلم الذی
تسلیم کرسکتا ہے بمقابلہ اس شدید اور لاجواب الزام کے جو بخاری ؒ پر عائد ہوتا ہے(درصورتیکہ ان منقولات کو واقعی منقول عن البخاری تسلیم کیا جاوے) کہ اس نے(بخاری) دین کے اکثر سے اکثر حصہ کو اور صحیح اور ثابت شدہ حصہ کو یعنی کلام نبوی کو جس کی تبلیغ اس پر فرض تھی عمداً کسل اور طوالت کی وجہ سے ترک کردیا اور خوف طوالت کا نہایت بودہ اورناقابل سماعت عذر پیش کردیا ۔دھیان میں لاؤ ان شاقہ محنتوں اور دراز مصائب کو جن کے بہ تفصیل سننے سے ایک صاحب عزم آدمی کی روح کانپ اٹھتی ہے اور جنہیں حضرت امام بخاری نے جمع احادیث کی خاطر مختلف سفروں میں گوارا کیا اور ان زمانوں میں صحراہائے دشوارگذار قطع کئے جب کہ قدم قدم پر ہلاکت کا اندیشہ تھا اور پھر جب کئی لاکھ احادیث کو جمع کر کے ایک لاکھ صحیح ان میں سے چھانٹیں۔ تو’’ نیکی کر دریا میں ڈال‘‘ کے مقولہ پر عمل کر کے بلاوجہ کسی ترجیح کے چار ہزار کو رکھ لیا اور باقی چھیانویں ہزار کو نیست و نابود کردیا!!! ابلہ گفت و دیوانہ باور کرد۔ اے سنگدل مولویو! تمہیں کس نے دین کی حمایت کرنا سکھایا۔ تم تو خدا کی‘ اس کے برگزیدہ رسول کی‘ خدام کرام رسول کی توہین کررہے ہو۔ ۱ سچ ہے اہل اللہ کے مقابلہ میں جو لوگ آویں اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو مسخ کر ڈالتا ہے ان کی عقلیں تاریک ہوجاتی ہیں۔ اے مولائے کریم ہمیں اس سے بچانا کہ ہم تیرے برگزیدوں سے لڑائی کی ٹھہرائیں۔ ایڈیٹر