ہوؔ نے کا امام بخاری کو قائل قرار دیا ہے انہوں نے اس حدیث کی روایت کو ترک کیا تو اس سے مجھے معلوم ہوا کہ انہوں نے اس حدیث کو ضعیف سمجھا ہے جس کو موضوع ہونے سے کوئی تعلق نہیں اس قول میں ایک تو آپ نے دھوکہ دیا ہے دوسرا اپنی ناواقفی کا اظہار کیا ہے۔ دھوکہ یہ کہ یہاں آپ ضعیف اور موضوع میں فرق کو تسلیم کرتے ہیں حالانکہ آپ کے نزدیک جو حدیث موافق قرآن نہ ہو وہ موضوع ہے اور کلام رسول ہونے سے خارج نہ اور قسم کے ضعیف یہی وجہ ہے کہ آپ اپنے پرچہائے نمبر میں ایسی حدیثوں کو کبھی موضوع کہتے ہیں کبھی غیر صحیح و ضعیف جس سے صاف ثابت ہے کہ آپ کی اصطلاح میں موضوع وضعیف ایک ہے اور صحیح مسلم کی حدیث دمشقی کوبھی آپ قرآن کریم کے مخالف سمجھتے ہیں اور رسالہ ازالہ میں اس کی وجوہ مخالفت بڑے زور سے بیان کرچکے ہیں لہٰذا وہ آپ کے نزدیک موضوع ہے نہ اور قسم کی ضعیف۔ یہاں آپ اس اعتقاد کو جتا کر مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں جس ناواقفی کا آپ نے اظہار کیا ہے وہ یہ ہے کہ روایت صحیح مسلم کو امام بخاری کے ترک کرنے سے آپ نے یہ اجتہاد کیا ہے کہ انہوں نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے صحیح سمجھتے تو وہ اس کو ضرور اپنی کتاب میں لاتے۔ یہ بات وہی شخص کہے گا جس کو حدیث کے کوچہ میں بھولے سے ہی کبھی گذر نہ ہوا ہوگا۔ امام بخاری نے بہت سی احادیث صحیحہ کو اپنی کتاب میں ذکر نہیں کیا اور یہ فرما دیا ہے کہ میں نے ان کو بخوف طوالت ترک کردیا ہے۔*صحیح بخاری کے مقدمہ میں ہے وروی من جھات عن البخاری قال صنفت کتاب الصحیح بِستّ عشر سنۃ اخرجتہ من ستۃ مأیۃ الف حدیث وجعلتہ حجۃ بینی و بین اللّٰہ۔ وروی عنہ قال رأیت النبی صلعم فی المنام وکأنی واقفت بین یدیہ وبیدی مروحۃ اذب عنہ فسألت بعض المعبرین فقال انت تذب عنہ الکذب فھو الذی حملنی علی اخراج الصحیح۔ وروی عنہ قال ما ادخلت فی کتاب الجامع الا ماصح و ترکت کثیرا من الصحاح لحال الطول۔*امام بخاری پکڑ رکھا ہے۔ کہیں قرآن کے سوا کسی اور کتاب یا مجموعہ کی نسبت فاتو بسورۃ من مثلہ کہا گیا ہے ؟ وہ کلام جس کا لٹریچر غیر متلو ہو اور مختلف مونہوں کے سانسوں سے مشوب ہو کر دائر و سائر ہوا ہو کبھی محفوظ رہ سکتا ہے۔ جانے دو ناحق کی ضد کو۔ ایڈیٹر * اس سوئے ادب اور افترا کا جو امام ہمام بخاری کی نسبت اس نادان دوست نے کیا ہے حضرت مرزا صاحب کا جواب بڑی غور سے ملاحظہ ہو۔ مولوی صاحب آپ نے بخاری کو دین کی ایک کثیر صحیح حصہ کا عمداً تارک قرار دیا ہے! کبرت کلمۃ تخرج من افواھھم۔ الآیۃ الہٰی ان دوستوں سے بچائیو۔ ایڈیٹر * مولوی صاحب! ان منقولات کو جن پر حقیقۃً حضرت امام بخاری ؒ کی کوئی مہر یا دستخط نہیں۔ کون بے ادب