پہنچاؔ نے کے طالب نہ رہیں گے اور اس حدیث کو جس کا مضمون خود ایک اصول ہے تسلیم کرکے اپنے انکار سے رجوع کریں گے واللّٰہ ثم باللّٰہ ثم تاللّٰہ و کفٰی باللّٰہ شھیدا وکفٰی باللّٰہ وکیلا۔اور اگر آپ صحت حدیث ثابت نہ کرسکیں یا شیخ طوسی سے امور مذکورہ بہ نقل صریح ثابت نہ کریں تو آپ اپنے مخترعہ مستحدثہ ۱؂ اصول پر اصرار و ضد چھوڑدیں۔ زیادہ ہم کیا کہیں۔ (۵) آپ لکھتے ہیں کیا آپ قرآن کریم کی ان خوبیوں کے بارہ میں کہ وہ محک اور معیار اور میزان ہے کچھ شک میں ہیں یہ کمال دھوکہ دہی ہے اور وہ اپنے پرچہ نمبر میں میرا یہ اقرار کہ میں قرآن کو امام جانتا ہوں اور احادیث صحیحین کو قرآن کے برابر نہیں سمجھتا نقل کرنے کے بعد یہ استفسار ایک افترا ہے جس سے مقصود صرف اپنے بے علم حاضرین مریدوں کو میری طرف سے بدظن کرنا ہے اور یہ جتانا ہے کہ یہ شخص قرآن کو نہیں مانتا۔ اس کا جواب میں پہلے بھی دے چکا ہوں کہ جو شخص قرآن کو حکم و امام نہ مانیں وہ کافر ہے۔ اب پھر کہتا ہوں کہ قرآن ہمارا حکم امام میزان معیار قول فصل وغیرہ ہے۔ مگر آپ اپنے غیر پر یعنی لوگوں کے باہمی اختلافات و تنازعات پر جو رائے پر مبنی ہوں اور حدیث صحیح تو خادم و مفسر قرآن اور وجوب عمل میں مثل قرآن ہے وہ اس سے مخالف و متنازع نہیں اور کسی مسلمان کا اس کی صحت قبول کرنے میں اختلاف نہیں تو پھر قرآن اس کی صحت کا حکم و معیار و محک کیونکر ہوسکتا ہے۔ اے خدا کی مخلوق خدا سے ڈرو۔ مسلمانوں کو دھوکہ میں نہ ڈالو قرآن و حدیث صحیح ایک ہی چیز ہیں اور ایک دوسرے کے مصدق ہیں تو پھرایک کا دوسرے کے محک و معیار ہونا کیا معنے رکھتا ہے۲؂ آپ لکھتے ہیں کہ موضوع ہونا کسی حدیث کا اور بات ہے ضعیف ہونا اور ہے اور میں نے صحیح مسلم کی حدیث د مشقی کے ضعیف ۱؂ اہل ایمان۔ خدا ترس ناظرین پر واضح رہے کہ مولوی صاحب مرزا صاحب کے اس اصول کو کہ ’’قرآن کریم صحت احادیث کا معیار ہے۔‘‘ مخترعہ۔ مستحدثہ اصول قرار دیتے ہیں۔ بے شک حضرت مرزا صاحب کا بڑا بھاری جرم ہے کہ وہ اختلاف کے وقت قرآن مجید کو حکم قرار دیتے ہیں مولوی صاحب اس پر جس قدر ناراض ہوں بجا ہے۔ آفرین۔ مولوی صاحب!۔ ایڈیٹر ۲؂ مولوی صاحب! ہوش سے بولئے۔ آپ دہائی کیوں دیتے ہیں۔ مرزا صاحب کب کہتے ہیں کہ حدیث صحیح قرآن کی معارض و مخالف ہوتی ہے۔ مرزا صاحب کا یہ قول ہے کہ ہر ایک حدیث کو قرآن مجید کی محک پر کسنا چاہئے جو اس امتحان پر پوری اترے وہ صحیح ہوگی اور پھر وہ لامحالہ قرآن کی مصدق ہوگی اور قرآن اور اس کا مضمون باہم متوافق ہوگا۔ آپ کا یوں چلانا بے سود ہے مولوی صاحب کہتے ہیں کہ پھر’’ اس کی صحت کا قرآن کیونکر معیار و حکم بن سکتا ہے۔‘‘ ہم کہتے ہیں کہ وہ صحیح جب ہی ہوگی جب قرآن کے معیار کے موافق کامل المعیار ثابت ہوگی پہلے اس کی صحت تو ثابت ہونی چاہئے۔ بات تو بڑی آسان ہے کچھ یونہی سا پھیر ہے۔ مولوی صاحب اگر غور کریں تو شاید سمجھ جائیں۔ یاد رکھیئے کہ قرآن کی مفسر و خادم بھی وہی حدیث ہوسکے گی جوقرآن کی میزان میں پوری اترے گی۔ مولوی صاحب! بتایئے تو آپ کو اس فضول پچ نے کیوں