منؔ ترک الصلٰوۃ کو قرآن پر کیوں عرض کیا تو جواب یہ ہے کہ اس حدیث کی صحت معنے میں ان کو کچھ شک ہوگا۱؂ اس شک کو رفع کرنے کی غرض سے انہوں نے یہ عمل کیا یا یہ کہ باوجود تسلیم صحت و عدم شک انہوں نے حصول مزید طمانیت کیلئے ایسا کیا اور اس حدیث کے اعتقاد کو اور پختہ کیا۔ اس کے جواب میں اگر یہ کہو کہ اس مسئلہ کا عام اصول ہونا خود اس حدیث کے الفاظ سے ثابت ہے اس صورت میں یہ اصول گویا آنحضرت کا مجوزہ اصول ہوا تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس حدیث کا آنحضرت سے ثابت نہ ہونا بلکہ زندیقوں۲؂ چھپے کافروں کی بناوٹ ہونا سابقاً بخوبی ثابت ہوچکا ہے لہٰذا اس مسئلہ کا بحکم نبوی عام اصول ہونا ثابت نہیں ہوسکتا۔ دوسری وجہ یہ کہ صاحب تفسیر حسینی یا شیخ محمد اسلم طوسی کے کلام میں یہ تصریح نہیں ہے کہ جب تک شیخ طوسی نے اس حدیث کو آیت اقیموالصلٰوۃ کے موافق نہ کر لیا تھا تب تک اس کو غیر صحیح یا وضعی سمجھا تھا۔ یا تیس سال کے عرصہ تک اس حدیث کی صحت یا عدم صحت کی نسبت کوئی فیصلہ نہ کیا تھا کیوں جائز نہیں کہ وہ اس حدیث کو مان چکے تھے مگر مزید اطمینان کیلئے وہ تیس برس تک قرآن مجید سے اس کا موافق ہونا تلاش کرتے رہے آپ سچے ہیں تو اس احتمال کو دلیل سے اٹھاویں اور بہ نقل صریح ثابت کریں کہ شیخ طوسی تیس سال تک اس حدیث کو غیر صحیح یاموضوع سمجھتے رہے یا اس کی صحت میں متردد و متوقف رہے۔ اس احتمال کو بدلائل اٹھا کر اس امر کو بہ نقل صریح ثابت کرنے کے بغیر آپ کا اس قول شیخ طوسی سے استدلال کرنا اور اس پر یہ درخواست کرنا کہ میں نے ایک آدمی کا نام اپنے موافقین سے بتادیا۔ اب آپ ضد چھوڑ دیں کمال تعجب کا محل ہے اور شرم کا موجب ثبت العرش ثم النقش آپ شیخ محمد اسلم طوسی سے اس عرض کا عام اصول صحت احادیث ہونا یا تیس۳۰ سال کا خاص کر حدیث من ترک الصلٰوۃ کی صحت میں متوقف رہنا ثابت کریں تو ہمارے انکار کو ضد کہیں۔ یہ نہ ہوسکے تو اس حدیث کی صحت ہی ثابت کریں پھر ہم شیخ محمد اسلم طوسی سے ان امور کا ثبوت بہم ؂ ناظرین مولوی صاحب کی اس’’ ہوگا‘‘ کو خوب یاد رکھیں۔ آپ نے اسی ہوگا کے باعث مرزا صاحب پر اعتراض کیا ہے۔ یہاںآپ نے نہ معلوم۔’’ ہوگا‘‘ کو کس قسم کے یقین کا مثبت قرار دیا ہے۔ایڈیٹر ۲؂ اے بیچارے مسکین مسلمانو! اے اللہ تعالیٰ کے سچے مخلص بندو! تمہیں زندیق۔ منافق اور چھپے کافر صرف اس وجہ سے کہا گیا کہ تم نے کلام اللہ کا ادب کیا۔ اس کی قرار واقعی تعظیم کی۔ تم نے یہ کہا کہ خلاف کتاب اللہ کے جو حدیث ہو وہ قابل اعتبار نہیں! تم نے یہ بڑا ظلم کیا قرآن کریم کو معیار صحت حدیث ٹھہرایا! پیارو! ظالموں نے تمہیں اس جرم پر کافر اور اور کیا کچھ کہا۔ نہیں نہیں تم قرآن کا ۔ ہمارے محبوب کا ادب کرنے والے ہو۔ تم ہمارے سرتاج ہو۔ آؤ تمہیں سر آنکھوں پر بٹھائیں۔ قرآن کے چھپے دشمن تمہیں جو چاہیں کہیں۔ پر ہم تو تمہیں سچا مسلمان جانتے اور یقین کرتے ہیں۔ ایڈیٹر