واجبؔ العمل سمجھیں صرف قرآن مجید کو کافی سمجھ کر۱؂ اس حدیث سے استغنا نہ کریں۔ رہا جواب دوسرے حصہ کا کہ صاحب تفسیر حسینی یا شیخ محمد اسلم طوسی نے آپکے اعتقاد کے موافق عمل کیا ہے اور حدیث من ترک الصلٰوۃ متعمدا کو قبول نہ کیا جب تک کہ اس کو آیت اقیموا الصلٰوۃ کے مطابق و موافق نہ پایا۔ سو اسکا جواب یہ ہے کہ کلام صاحب حسینی یا شیخ محمد اسلم طوسی کا مطلب بیان کرنے میں آپ نے دو وجہ سے دھوکا کھایا یا دیدہ ودانستہ مسلمانوں کو دھوکہ دینا چاہا ہے وجہ اول یہ کہ صاحب تفسیر حسینی یا شیخ محمد اسلم طوسی نے آپ کی مانند یہ عام اصول نہیں ٹھہرایا کہ احادیث صحیحہ مسلم الصحت کی صحت ثابت ہوجانے کے بعد اس کی صحت کا امتحان اس اصول سے کیا جائے اور جب تک وہ حدیث مطابق قرآن نہ ہو اس کو صحیح نہ سمجھنا چاہئے ان کے کلام میں اس عام اصول کا نام ونشان بھی نہیں ہے اور نہ آپ نے یہ عام اصول ان سے نقل کیا ہے انہوں نے صرف ایک حدیث من ترک الصلٰوۃ کو کتاب اللہ پر عرض کیا اور اگر اس حدیث کے سوا اور احادیث کو بھی انہوں نے اسی غرض کے ذریعہ سے صحیح قرار دیا ہے تو آپ یہ امر ان سے بہ نقل صحیح ثابت کریں ورنہ آپ پر یہ الزام قائم ہے کہ آپ جزئی واقع کو عام اصول بناتے ہیں اور خود دھوکہ کھاتے اور مسلمانوں کو دکھ دیتے ہیں اس پر اگر یہ سوال کرو کہ ان کے نزدیک یہ اصول تصحیح روایات عام مقرر نہ تھا تو انہوں نے اس حدیث اس گستاخی اور شوخی کی بھی کوئی حد ہے! اے اہل ایمان اے عاشقان کلام پاک رحمان تمہارے بدنوں پر رونگٹے نہیں کھڑے ہوتے تمہارے کلیجے دہل نہیں جاتے ! کیسا اندھیر پڑ گیا ! قرآن کریم کو ناکافی غیر مکمل اور ناقابل حکومت کہا جاتا ہے۔ وہ کتاب جس نے علانیہ دعویٰ کیا ہے کہ میں کامل مہیمن اور تمام صداقتوں اور تمام دینی ضرورتوں کی حاوی و جامع کتاب ہوں۔ اور میں حکومت اور فیصلہ کرنے والی ہوں شرارت دیکھو اسے ناکافی کہا جاتا ہے! کوئی اس بے باک گروہ سے پوچھے کہ اگر قرآن کو کسی تکملہ۔تتمہ۔ ذیل۔ مستدرک اور ضمیمہ کی ضرورت تھی تو کیوں صاحب الوحی مہبط القرآن علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں ان کے حکم سے قرآن کے علاوہ اور ان کے ملفوظات کی کتابت و تدوین کا شدید اور اکیداہتمام نہ کیا گیا کیوں بالصراحت آپ نے نہ کہہ دیا کہ قرآن(معاذ اللہ) مجمل و ناکافی ہے۔ حدیثیں ضرور ضرور لکھ لیا کرو۔ ورنہ قرآن ادھورا ناقص اور بے معنے رہ جائے گا۔ اللہ اللہ! قرآن کا تو وہ اہتمام ہو کہ بمجر د آیت کے نزول کے کاتب تیار بیٹھے ہوں اور ہڈیوں اور رقّ وغیرہ پر جھٹ پٹ لکھ لیں اور احادیث کے اہتمام کی کسی کو پرواہ نہ ہو۔ افسوس جس امر کا دعو یٰ تحدی خود صاحب الحدیث نے نہیں کیا آپ لوگ اس سے بڑھ کر کیوں قدم مارتے ہیں قرآن کریم کی نسبت بے شک دعویٰ کیا گیا ہے ۱؂ ا حادیث کی نسبت یہ تحدی اور دعویٰ کہاں کیا گیا ہے۔ فتدبر۔ ایڈیٹر