جبؔ کوئی فاسق تمہارے پاس خبر لاوے تو تم اس کی تفتیش کرو۔ یہ دلیل بھی آپ کی ناواقفی پر ایک دلیل ہے۔ احادیث صحیحین کے راوی تہمت فسق سے بری ہیں اور ان کی عدالت ثابت و محقق ہوچکی ہے۔ اس نظر سے ان کتابوں کی احادیث اتفاق اہل اسلام کے ساتھ صحیح تسلیم کی گئی ہیں۔ امام ابن حجر مقدمہ فتح الباری میں فرماتے ہیں۔ ینبغی لکل منصف ان یعلم ان تخرج صاحب الصحیح لای راوی کان مفض لعدالتہ عندہ وصحۃ ضبطہ وعدم غفلتہ ولا سیما الی ذلک من اطلاق جمھورالائمۃ علی تسمیۃ الکتابین بالانصاف بالصحیحین وھذا لمعنٰی لم یحصل بغیر من خرج عنہ فی الصحیحین فھونھایۃ اطباق الجمہور علی تعدیل من ذکر فیہما ھذا اذا اخرج لہ فی الاصول فاما ان اخرج فی المتابعات والشواھد والتعالیق فھذا یتفاوت درجات من اخرج لہ فی الضبط وغیرہ مع حصول اسم الصدق لہم وحینئذٍ اذا وجد نالغیرہ فی احدمنھم طعنا فذالک الطعن مقابل للتعدیل لھذا الامام فلا یقبل الامبین السبب مفتقرا بقادح یقدح فی عدالتہ ھذا الراوی و فی ضبطہ مطلقا او فی ضبطہ الخبر بعینہ لان الاسباب الحاملۃ للائمۃ علی الجرح متفاوتۃ منھاما یقدح و منھا ما لایقدح وقد کان الشیخ ابوالحسن المقدسی یقول فی الرجل الذی یخرج عنہ فی الصحیح ھذا جاز القنطرۃ یعنی بذالک انہ لایلتفت الی ماقیل فیہ قال الشیخ ابو الفتح القشیری فی مختصرہ وھٰکذا معتقدوبہ اقول ولایخرج عنہ الالحجۃ ظاھرۃ و بیان شیاف یزید فی غلبۃ الظن علی المعنی الذی قدمناہ من اتفاق الناس بعد الشیخین علی تسمیۃ کتابیھما بالصحیحین ومن لوازم ذٰلک تعدیل رواتھاقلت فلایقبل الطعن فی احدمنھم الابقادح واضح ۔ اس کے مقابلہ میں جو آپ نے لکھا ہے کہ امکانی طور پر صدور کذب وغیرہ ذنوب ہر ایک سے بجز نبی کے ممکن الوقوع ہے یہ آپ کی ناواقفی پر ایک اور دلیل ہے آپ یہ نہیں جانتے کہ روایت اور شہادت کا حکم ایک ہے جس میں فعلی صدور کذب مانع قبول و اعتبار ہے نہ امکانی اور اگر امکانی کذب بھی مانع قبول و اعتبار ہوتا تو خداتعالیٰ کسی گواہ کی شہادت بجز نبی معصوم قبول نہ کرتا اور نہ عدالت شہود کا نام لیتا اور مسلمانوں کو یہ اجازت نہ دیتا وَ ۱؂ یعنی دو گواہ عادل گواہ بناؤ اور نہ فرماتا ۲؂ یعنی ان لوگوں کو گواہ بناؤ جن کو پسند کرو۔ یعنی بلحاظ عدل ان کے و استقامت کے اچھا سمجھو بلکہ صاف یہ فرمایا کہ ہر معاملہ میں نبی معصوم کو گواہ کرلیا کرو کیونکہ امکان کذب وغیرہ ذنوب بقول آپ کے بجز نبی معصوم کے ہر ایک گواہ میں موجود ہیں اور امید ہے کہ بات آپ بھی نہ کہیں گے کہ امکان کذب کی نظر سے شہادت بجز نبی معصوم کسی کی مقبول نہیں۔