کتبؔ الی رسول اللہ صلعم ان ورث امرأۃ اشبع الضبابی من دیۃ زوجھا فرجع عمر رواہ الترمذی وابوداؤد۔ (۴) دیت جنین کی حدیث کو دو شخصوں کی روایت و شہادت سے آپ نے قبول کیا اور اس بات میں قرآن کریم کے حکم قصاص پر اکتفانہ فرمایا۔عن ھشام عن ابیہ ان عمر بن الخطاب نشد الناس من سمع النبیؐ قضی فی السقط فقال المغیرۃ انا سمعتہ قضی فی السقط بغرۃ عبداوامۃ قال ائت من یشھد معک علی ھذا فقال محمد بن مسلمۃ انا اشھد علی النبی صلعم بمثل ھذا رواہ البخاری صفحہ ۱۰۲۰۔ وزاد ابوداؤد فقال عمر بن الخطاب اللہ اکبر لولم اسمع بھذا لقضینا بغیرھذا۔ (۵) سب ہی انگلیوں کے خون بہا کے برابر ہونے کی حدیث آپ نے قبول فرمائی باوجودیکہ آپ کی رائے اس میں یہ تھی کہ چھوٹی انگلی اور اس کے ساتھ والی کی دیت نو۹ اونٹ ہونا چاہئے۔ بیچ والی اور اس کے ساتھ والی سبابہ کے بارہ۱۲ اونٹ۔ انگوٹھے کے پندرہ ۱۵ اونٹ جو بظاہر ان کی مختلف قوتوں اور مقداروں کی نظر سے انصاف و عدل معلوم ہوتی ہے جس کا قرآن میں حکم ہے مگر آپ نے حدیث سنی تو قبول فرمائی اور قرآن سے اس کے مطابق کرنے کی کچھ پرواہ نہ کی صحیح بخاری صفحہ ۱۰۱۸ میں ہے۔ عن النبی صلعم قال ھذہ وھذہ یعنی الخنصر والابھام سواء اور مسلم الثبوت کی شرح فواتح الرحموت میں ہے وترک عمررأیہ فی دیۃ اصابع وکان رأیہ فی الخنصر والبنصر تسعًا وفی الوسطیٰ وفی المسبحۃ اثنا عشرو فی الابھام خمسۃ عشر کل ذٰلک فی التیسیر قال الشارح وکذا ذکر غیرہ والذی فی روایتہ البیہقی انہ کان یری فی المسبحۃ اثنا عشرو فی الوسطی ثلث عشر بخبر عمر بن حزم فی کل اصبع عشر من الابل۔اس مضمون کی اور بہت مثالیں ہیں مگر ہم آپ کی طرح تطویل پسند نہیں کرتے ۔ان امثلہ کو دیکھ کر کس و ناکس بشرطیکہ ادنیٰ فہم و انصاف رکھتا ہو ہرگز نہ کہے گا کہ حضرت عمر نے جو فرمایا ہے کہ ہم کو کتاب اللہ کافی ہے اس سے مراد یہ ہے کہ حدیث نبوی کی ہم کو حاجت نہیں اور قرآن اس کی جگہ کافی ہے۔ اور نہ یہ مراد ہے کہ جب تک کسی حدیث کی شہادت قرآن میں نہ پائی جاوے وہ لائق قبول نہیں بلکہ اس سے مراد صرف وہی ہے جو ہم نے بیان کی کہ جس مسئلہ میں سنت صحیحہ سے کوئی تفصیل نہ ہو وہاں قرآن کریم کافی ہے اس قول فاروقی کے مورد کو دیکھا جائے تو اس سے بھی یہی معنے سمجھ میں آتے ہیں۔ مگر اس کی بحث و تفصیل میں تطویل ہوتی ہے کیونکہ اس میں شیعہ سنیوں کے باہمی اختلاف کو جو اس قول کی نسبت ان میں پایا جاتا ہے ذکر کرنا پڑتا ہے جس سے بحث مقصود سے خروج لازم آتا ہے۔ امکان تضعیف و توہین حدیث صحیحین پر آپ نے ایک یہ دلیل پیش کی ہے کہ قرآن کریم میں ارشاد ہے۔