کہؔ حضرت عمر فاروق نے اپنی تمام عمر میں اپنے سے چھوٹے رتبہ کے لوگوں کی روایات کو قبول کیا ہے اور ان روایات سے مستغنی ہو کر عمل کتاب اللہ کو کافی نہیں سمجھا اس کی تفصیل ہمارے ضمیمہ جات ۱۸۷۸ ء سے بخوبی ہوچکی اس مقام میں اس کی چند مثالیں ذکر کی جاتی ہیں۔
(۱) قرآن مجید سے بیٹی کی وراثت کا یہ حکم بیان ہوا ہے کہ کسی شخص کی ایک بیٹی ہو تو وہ نصف مال کی وارث ہے اس حکم قرآنی کے مفسریا یوں کہیں کہ مخصص آنحضرت کی یہ احادیث ہیں گروہ انبیاء کا کوئی وارث نہیں ہوتا جس کے دستاویز سے حضرت صدیق اکبر نے حضرت فاطمہ زہرا کو آنحضرت کے خالص مال سے ورثہ نہ دیا باوجودیکہ انہوں نے مطالبہ بھی کیا اور آنحضرت صلعم نے بیٹی بیٹے وغیرہ وارثوں کو اس حالت میں محروم الارث ٹھہرایا ہے جب کہ وہ اپنے مورث کو قتل کردیں یا وارث و مورث کے مذہب میں اختلاف ہوجاوے۔ حضرت عمر فاروق نے ان احادیث کو قبول فرمایا اور ان پر عمل کیا اور ان احادیث سے مستغنی ہوکر آیت میراث کے عمل پر اکتفا نہ کیا۔
(۲) قرآن مجیدمیں ان عورتوں کو جن کا نکاح مرد پر حرام ہے شمار کر کے فرمایا ہے ۱ یعنی ان عورتوں کے سوا جن کا حکم حرمت نکاح قرآن میں بیان ہوا ہے سب عورتیں تم پر حلال ہیں اس حکم قرآن کی تفسیریا یوں کہیں کہ تخصیص میں آنحضرت کا یہ ارشاد ہے کہ جو روکی خالہ اور پھوپھی جورو کے نکاح میں ہونے کی حالت میں نکاح میں نہ لائی جاوے چنانچہ فرمایا ہے لا تنکح المرأۃ علی عمتھا ولا خالتھا آنحضرت کے جملہ اصحاب نے جن میں حضرت عمرؓ بھی داخل و شامل ہیں اس حدیث نبوی کو قبول فرمایا ہے اور اس کو مخالف قرآن سمجھ کر اس کے عمل سے استغنا اور عمل قرآن پر اکتفا نہیں کیا۔
فاضل قندھاری نے کتاب مغتنم الحصول میں کہا ہے ان الصحابۃ خصّصوا واحل لکم ما وراء ذالکم بلا تنکح المرأۃ علی عمتھا ولا علی خالتھا ویوصیکم اللہ فی اولادکم ولایرث القاتل ولایتوارثان اھل الملتین ونحن معشر الانبیاء لا نرث ولا نورث۔
(۳) حضرت عمر فاروق نے ایک بادیہ نشین راوی کی اس حدیث کو قبول فرمایا جس میں بیان ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک عورت کو اس کے خاوند کی دیت کا وارث کیا باوجودیکہ قرآن مجید اس عورت کو دیت کا وارث نہیں بناتا کیونکہ وہ دیت بعد موت شوہر کا مال ہوتا ہے اور عورت بعد موت شوہر اس کی عورت نہیں رہتی وبناءً علیہ حضرت عمر فاروق کی رائے یہ تھی کہ وہ عورت اس مال سے وراثت کی مستحق نہیں مگر جب آپ کو حدیث مذکور معلوم ہوئی تو اپنی رائے کو چھوڑ دیا اور حدیث کو قبول فرمایا۔ کان عمر بن الخطاب یقول الدیۃ علی العاقلۃ ولا ترث المرأۃ من دیۃ زوجھا شیءًا حتی قال لہ الضحّاک بن سفیان