معینؔ کماحکاہ الذھبی علی ان فی ھذاالحدیث الموضوع نفسہ مایدل علی ردہ لانا اذا عرضناہ علی کتاب اللہ خالفہ ففی کتاب اللہ عزوجل ما اتاکم الرسول فخذوہ ومانھاکم عنہ فانتھوا۔ ونحوہ من الایات انتھٰی۔اور جو حدیث حارث اعورآپ نے پیش کی ہے وہ بھی اولاً صحیح نہیں جس کتاب مشکوٰۃ سے آپ نے وہ حدیث نقل کی ہے اس میں اس کا جرح موجود ہے جس کو آپ نے سرقہ و خیانت سے نقل نہیں کیا اس میں منقول ہے۔ قال الترمذی ھذا حدیث اسنادہ مجھول و فی الحارث مقال۔ایسا ہی تقریب التہذیب میں حارث اعور کو مجہول کہا ہے اور اس حارث کا حال ہم کتب اسماء الرجال سے بہ تفصیل نقل کریں تو ایک دفتر ہوجائے۔ یہ اعور بھی ایک دجال تھا اور اگر بطور فرض محال اس حدیث کو صحیح تسلیم کر لیں تو اس کے وہ معنی نہیں جو آپ نے بطور تحریف کئے ہیں بلکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ لوگ دلائل شرعیہ یعنی قرآن و حدیث کو چھوڑ کر محض رائے والی باتوں میں خوض کریں تو اس فتنہ سے نجات قرآن سے متصور ہے اور احادیث و آثار سابقہ سے ظاہر ہوچکا ہے کہ حدیث بھی مثل قرآن ہے۔ بناءً علیہ اس حدیث کے یہ معنے ہوں گے کہ اس فتنہ سے نجات قرآن و حدیث دونوں کی اتباع سے متصور ہے نہ یہ کہ حدیث نبوی فتنہ ہے اور اس سے نجات مطلوب ہے۔ آپ نے اس حدیث کے ترجمہ میں لفظ احادیث کا ترجمہ لفظ حدیثوں سے کیا اور مسلمانوں کو پورا دھوکہ دیا روئے زمین میں ایسا کوئی مسلمان نہ ہوگا جو اس کلام میں احادیث سے نبوی حدیثیں مراد لیتا ہو۔ یہاں احادیث سے لوگوں کی باتیں مراد ہیں جو اس کے لغوی معنے ہیں اور بہت سی احادیث نبویہ میں یہ لغوی معنے پائے جاتے ہیں ایک حدیث میں ہے ایاک والظن فان الظن اکذب الحدیث۔ ایک حدیث میں ذکر ہے کفابالمرء کذبًا ان یحدث بکل ماسمع یہاں بھی حدیث سے بات کرنا مراد ہے جس حدیث میں بوقت قضاء حاجت دو شخصوں کی آپس میں باتیں کرنے سے ممانعت وارد ہے اس حدیث میں بھی لفظ یحدثان بولا گیا ہے کیا ان سب احادیث میں حدیث سے حدیث نبوی کی تحدیث مراد ہے۔ ہرگز نہیں۔ آپ نے اس حدیث اعور کے معنے میں تحریف کرنے کے وقت یہ غور نہ کیا کہ حدیث کے لغوی معنے کیا ہیں یا کہ دیدہ دانستہ لوگوں کو دھوکہ دیا۔ حضرت عمرؓ کے قول حسبنا کتاب اللہ سے جو آپ نے تمسک کیا ہے اس سے یہ مقصود نہیں کہ احادیث صحیح مسلم الصحۃ والثبوت کو چھوڑ کر کتاب اللہ کو کافی سمجھنا چاہئے بلکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ جہاں ہمارے پاس سنت صحیحہ نبویہ سے کوئی تفصیل نہ ہو وہاں قرآن کریم کو کافی سمجھیں گے کیونکہ اس صورت میں یہ امر ناممکن ہے کہ قرآن کریم میں اس کا بیان کافی نہ ہوا ہو۔ قرآن میں اس کا بیان نہ ہوتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی حدیث میں ضرور اس کی تفصیل پائی جاتی اس پر روشن دلیل جس سے کوئی مسلمان انکار نہ کرے یہ ہے