سے ؔ نقل کیا ہے۔ قال کان جبرئیل ینزل علی النبی صلعم بالسنۃ کماینزل علیہ بالقراٰن یعنی حضرت جبرئیل جیسا کہ آنحضرت صلعم پر قرآن اتارتے ویسے ہی حدیث۔ اور سعید بن جبیرؓ سے نقل کیا ہے انہ حدث یوما بحدیث عن النبی صلعم فقال رجل فی کتاب اللہ مایخالف ھٰذا‘ قال لا ارانی احدثک عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم و تعرض فیہ بکتاب اللہ کان رسول اللہ صلعم اعلم بکتاب اللّٰہ منک۔
امام شعرانی نے منہج المبین میں کہا ہے اجتمعت الاُ مَّۃ علی ان السنۃ قاضیۃ علی کتاب اللہ۔ ان ہدایات قرآنی و اقوال نبوی و آثار سلف کے مقابلہ جو حدیث آپ نے تفسیر حسینی سے نقل کی ہے وہ قابل اعتبار نہیں ہے وہ حدیث زندیقوں یعنے چھپے۔۔۔ مرتدوں کی بنائی ہوئی ہے اور اگر اس حدیث کو بطور فرض محال صحیح فرض کر لیا جائے تو وہ خود اپنے مضمون کے مکذب و مبطل ہے۔ہم اس حدیث کے رو سے پہلے اسی کو قرآن پر پیش کرتے ہیں تو بحکم آیت ومااٰتاکم الرسول وغیرہ اس کو موضوع پاتے ہیں یہ بات میں صرف اپنی رائے سے نہیں کہتا بلکہ ائمہ محدثین و فقہاء اصولیین کی کتابوں میں پاتا ہوں۔
کتاب تلویح میں ہے وقد طعن فیہ المحدثون بان فی روایۃ یزید بن ربیعۃ وھو مجھول۔ وترک فی اسنادہ واسطۃ بین الاسعث وثوبان فیکون منقطعا۔ وذکر یحي بن معین انہ حدیث وضعتہ الذنادقۃ ۔ مولانا بحر العلوم نے شرح مسلّم الثبوت میں فرمایا ہے قال صاحب سفر السعادت انہ من اشدّالموضوعات۔ قال الشیخ بن حجر العسقلانی قدجاء بطرق لاتخلوعن المقال وقال بعضھم قدوضعتہ الذنادقۃ وایضا ھو مخالف لقولہ تعالٰی مااٰتاکم الرسول فخذوہ فصحت ھذا الحدیث لیستلزم وضعہ وردہ فھو ضعیف مردود۔
ابن طاہر حنفی صاحب مجمع البحار تذکرہ میں فرماتے ہیں وما اوردہ الاصولیون فی قولہ اذاروی عنی حدیث فاعرضوہ علی کتاب اللہ فان وافقہ فاقبلوہ وان خالفہ ردوہ قال الخطابی وضعتہ الزنادقۃ ویدفعہ حدیث انی اوتیت الکتب وما یعدلہ ویروی ومثلہ وکذاقال الصغانی وھوکما قال انتھٰی۔ قاضی محمد بن علی الشو کانی فواید مجموعہ میں فرماتے ہیں۔حدیث اذاروی عنی حدیث فاعرضوہ علی کتاب اللہ فاذا وافقہ فاقبلوہ وان خالفہ فردوہ۔ قال الخطابی وضعتہ الذنادقۃ ویدفعہ انی اوتیت القراٰن ومثلہ معہ وکذا قال الصغانی قلت وقد سبقھما الی نسبتہ الی الزنادقۃ ابن