رسوؔ ل صلی اللہ علیہ و سلم تم کو دے۔ قرآن ہو خواہ وحی غیر متلو حدیث وہ لے لو اور جس سے روکے یعنی جو حکم کسی چیز کے عدم استعمال کی نسبت دے گو وہ حکم قرآن میں نہ ہو اس سے رک جاؤ۔ اس ارشاد قرآن کی ہدایت و شہادت سے حضرت ابن مسعود نے وشم(جسم کو گود نے) پر *** کی و عید کو جو صرف حدیث میں وارد ہے قرآن میں داخل قرار دیا۔ اس پر ایک عورت اُمّ یعقوب نے اعتراض کیا کہ یہ *** قرآن کریم میں کہیں نہیں ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ جس حالت میں *** حدیث میں وارد ہے تو بحکم آیت ۱یہ قرآن کریم میں وارد ہے۔ چنانچہ صحیح مسلم میں ہے۔ عن عبداللہ قال لعن اللہ الواشمات والمستوشمات۲ والمتنمصات و المتفلجات للحسن المغیرات لخلق اللہ قال فبلغ ذٰلک امرأۃ من بنی اسد یقال لھا ام یعقوب وکانت تقرأ القراٰن فاتتہ فقالت ماحدیث بلغنی عنک انک *** الواشمات والمستوشمات۲ والمتنمصات والمتفلجات للحسن المغیرات لخلق اللہ۔ فقالؔ عبداللہ ومالی لا العن من لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم وھو فی کتاب اللہ عزوجل فقالت امرأۃ لقد قرات مابین لوحی المصحف فماوجدتہ فقال لئن کنت قراتیہ لقد وجدتیہ قال اللہ عزّوجل ومااتاکم الرسول فخذوہ ومانھاکم عنہ فانتھوا۔جناب صاحب الحدیث صلی اللہ علیہ و سلم نے اسی ارشاد قرآنی کے موافق ارشاد کیا ہے وعن المقداد ابن معدیکرب قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم الا انی اوتیت القراٰن ومثلہ معہ الایوشک رجل شبعان علی اریکۃ یقول علیکم بھذا القران فماوجدتم فیہ من حلال فاحلوہ وماوجدتم فیہ من حرام فحرموہ وانما حرم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کما حرم اللہ الا لایحل لکم الحمارالاھلی ولاکل ذی ناب من اسباع ولا لقطۃ معاھدالا ان یستغنی عنھا صاحبھا ومن نزل بقوم فعلیھم ان یقروہ فان لم یقرؤہ فلہ ان یعقبھم بمثل قرأہ رواہ ابوداؤد ۔طیبی نے شرح مشکوٰۃ میں کہا ہے فی ھذا الحدیث توبیخ و تقریع ینشأ من غضب عظیم علی من ترک السنۃ وما عمل بالحدیث استغنأ عنھا بالکتٰب۔ اس حدیث کو دارمی نے بھی نقل کیا ہے اور اس سے یہ مسئلہ استنباط کیا ہے السنۃ قاضیۃ علی کتاب اللّٰہ۔یعنی حدیث ان وجوہات اختلافات قرآن کا فیصلہ کرنے والی ہے جو کتاب کے معانی مختلفہ سے لوگوں کے خیال میں آتے ہیں پھر امام یحییٰ ابن ابی کثیر سے نقل کیا ہے قال السنۃ قاضیۃ علی القراٰن ولیس القراٰن بقاضٍ علی السنۃ یعنی حدیث قرآن کے وجوہات اختلافات کا فیصلہ کرنے والی ہے اور قرآن ایسا نہیں کرتا کہ وہ حدیث کے وجوہ اختلاف کا فیصلہ کرے یعنی اس لئے کہ خدمت خادم کا کام ہے نہ مخدوم کا۔ اور دارمی نے حسانؓ