اسؔ کے جواب میں اخیر یہی کہو گے کہ حدیث یا صاحب حدیث نے۔ دوسرا یہ سوال کہ وہ تعامل کن کن صورتوں پر ہوا ہے اتفاقی پر یا اختلافی پر ۔صرف اتفاقی صورتوں میں اس کو منحصر کرو گے تو آپ کو نماز پڑھنا مشکل ہوجائے گا۔ اختلافی صورتوں پر تعامل کا دعویٰ کرو گے تو اختلاف موجب تساقط ہوگا یا آخر اس اختلاف کا تصفیہ احادیث صحیحہ سے ہوگا جو آپس میں متوافق ہوسکتی ہیں۔ اب ہم ایک دو ایسی مثالیں پیش کرتے ہیں جن میں آپ کو تعامل کا اشتباہ نہ ہو قرآن کریم نے حرام جانوروں کو(جیسے خنزیر‘ منخنقہ وغیرہ) حرام فرما کر ان کے ماسوا جانوروں کو حلال کردیا ہے۔ آیت ۱؂ الایۃ۔ ۲؂ ملاحظہ ہوں۔ اور بعض جانوروں کی حرمت کا بیان اپنے خادم حدیث یا صاحب الحدیث صلعم کے حوالہ کردیا۔ وبناء علیہ ا س نے ظاہر کردیا کہ علاوہ ان جانوروں کے جن کی حرمت کا بیان قرآن میں ہے گدھا اور درندے حرام ہیں۔ اب فرمایئے اس حکم گدھے اور درندوں کی حرمت کی تفسیر قرآن کریم نے خود کہاں فرمائی ہے اس پر وقوع تعامل کابھی آپ دعویٰ نہیں کرسکتے گدھے وغیرہ درندوں کی حرمت کا اعتقاد یا اس کے استعمال کا ترک کوئی عمل نہیں ہے جس پر تعامل کا ادعا ہوسکے حدیث کو یہ خدمت تفسیر و فیصلہ وجوہات قرآن کریم نے خود عطا فرمائی ہے اور صاحب الحدیث صلعم نے بھی اپنے کلام میں جس کو حدیث کہا جاتا ہے اس خدمت کے عطا ہونے کا اظہار کیاہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے۔ ۳؂ اس مضمون کی آیات قرآن میں اور بہت ہیں مگر ہم آپ کی طرح ان سب کو شمار کر کے تطویل کلام نہیں کرنا چاہتے۔* یعنی اے مسلمانو! جو کچھ مولوی صاحب آیتیں نہیں لکھتے تطویل کلام سے ڈرتے ہیں مگر حدیثیں اتنی گن دی ہیں اور ان پر تفریعات اس قدر کی ہیں کہ مبصر اور کلام برمحل کا شیفتہ ملول ہوجاتا ہے۔ اللہ اللہ! من ضحک ضحک خدا جانے ہمارے شیخ صاحب کی دانش کو کیا ہوگیا ہے کوئی ان سے پوچھے اس قدر نقل اقوال سے آپ کا مدعا کیا ہے کیایہ سب حدیثیں تعامل کے سلسلہ کی نہیں ہیں؟ اور یہ سب اقوال مرزا صاحب کی تقسیم احادیث کی مؤید نہیں؟ مولوی صاحب آپ کا سرمایہ علمی یہی نقل اقوال ہے اگر اقوال آپ کے مضمون سے کوئی نکال لے تو غالباً آپ کا طبع زاد اصلی مضمون چند سطریں رہ جاوے۔ فضول گوئی سے باز آیئے اور سچے ولی اللہ کے حضور میں(جسے آپ پہلے بصدق دل مان چکے ہیں) زانوئے استفاضہ واستفادہ ٹیک کر بیٹھئے۔ انصاف سے دیکھئے کیا وسیع مضمون لکھا ہے اور اللہ تعالیٰ کی تعلیم و تفہیم سے لکھا ہے نہ یہ کہ زید و عمر کی کتابوں اور بہمان و فلاں کے اقوال سے اپنے مضمون کو بے قدر کیا ہو۔ اس مجدد کا سرمایہ اور گل سرسَبَد فرقان حمید اور قرآن مجید ہے وہ اسی سے لیتا ہے اور اسی سے لے کر دیتا ہے وہ ان علموں کو جن پر آپ ایسے لوگوں کو ناز ہے اور جن کا دوسرا نام نقل اقوال علماء ہے حقارت سے دیکھتا ہے اور فرماتا ہے۔ علم آں بود کہ نور فراست رفیق اوست۔ ایں علم تیرہ رابہ پشینرے نمے خرم۔ ایڈیٹر