رویناؔ انفا عنہ من ذم الرای والتبری منہ ومن تقدیمہ النص علی القیاس انہ لو عاش حتّٰی دونت احادیث الشریعت بعد رحیل الحفاظ فی جمعھا من البلاد والثغور والظفر بھا لاخذ بھا و ترک کل قیاس کان قاسہ وکان القیاس قل فی مذھبہ کما قل فی مذھب غیرہ بالنسبت الیہ لکن لما کانت ادلۃ الشریعت مفرقۃ فی عصرہ مع التابعین و تابع التابعین فی المدائن و القریٰ والثغور کثر القیاس فی مذھبہ بالنسبت الی غیرہ من الائمۃ ضرورۃ لعدم وجود النص فی تلک المسائل حتی قاس فیھا بخلاف غیرہ من الائمۃ فان الحفاظ قد رحلوا فی طلب الاحادیث و جمعھا فی عصرھم من المدائن والقری و دونوھا فجادبت احادیث الشریعت بعضھا بعضا فھٰذاکان سبب کثرۃ القیاس فی مذھبہ و قلتہ فی مذاہب غیرہ۔ انتھٰی۔ جس کا ماحصل یہ ہے کہ کتب احادیث امام ابوحنیفہ کے بعد تالیف ہوئیں۔ امام صاحب ان احادیث کو پاتے تو ضرور قبول فرماتے۔ اور اس سے پہلے ایک جگہ فرماتے ہیں فلو ان الامام ابا حنیفۃ ظفر بحدیث من مس فرجہ فلیتوضا لاخذبھا۔ واضح رہے کہ یہ حدیث بخاری میں نہیں ہے بلکہ اس سے کم مرتبہ کتب سنن میں ہے۔ اس تحقیق سے آپ کو یہ بھی معلوم ہوگا کہ اہل حدیث کا صحیحین کو بلاوقفہ و نظر واجب العمل سمجھنا تقلید بے دلیل نہیں ہے بلکہ اس میں ان دلائل و اصول کا اتباع ہے جو تصحیح حدیث میں مرعی رکھے گئے ہیں۔ اجماع مخالفین و موافقین جس کو مخالف و موافق نقل کرتے ہیں ان احادیث کی صحت پر بڑی روشن دلیل ہے آپ اجماع کے لفظ سے گھبرا تے ہیں تو اس کی جگہ تلقی و تداول امت کو جو تعامل و توارث کا ہموزن ہے قبول کریں اور یقین کے ساتھ مان لیں کہ صحیح بخاری و صحیح مسلم پر جملہ فرقہائے اہل سنت کا عمل واستدلال چلا آیا ہے اس پر جو آپ کا یہ سوال ہے کہ صحیح بخاری و صحیح مسلم مسلمانوں میں اتفاق کے ساتھ مسلم چلے آئے ہیں تو بعض علماء حنفیہ وغیرہ نے ان احادیث کا خلاف کیوں کیا اور سبھی نے ان کے مطابق کوئی مذہب کیوں اختیار نہ کرلیا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ خلاف فہم معانی میں اختلاف پر مبنی ہے یا بعض وجوہات ترجیح پر آپ کتب اصول و فروع اسلام میں نظر نہیں رکھتے آپ فتح القدیر کو جو حنفی مذہب کی مشہور کتاب ہے یا برہان شرح مواہب الرحمن کو جو عرب و عجم میں بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے۔ ایک دوروز مطالعہ کرکے دیکھیں کہ ان میں کس عزت و ادب کے ساتھ صحیحین کی حدیثوں سے استدلال کیا گیا ہے اور جس حدیث سے اختلاف کیا ہے اس کو ضعیف سمجھ کر اختلاف کیا ہے؟ یا اس کے معانی میں اختلاف کرکے یا اور وجوہات خارجیہ سے دوسری احادیث کو ترجیح دے کر اختلاف کیا ہے؟
آپ فرماتے ہیں کہ احادیث پرکھنے کیلئے قرآن کریم سے بڑھ کر ہمارے پاس کوئی معیار نہیں۔ محدثین نے گو