معیاؔ ر صحت قوانین روایت کو ٹھہرایا ہے مگر انہوں نے اس کو کامل معیار نہیں کہا اور نہ قرآن کریم سے مستغنی کرنے والا بتایا ہے اور اس دعوے کی تائید میں متعدد تحریروں میں متعدد آیات کو ذکر کیا ہے جن میں قرآن مجید کے محامد علیہ و فواضل سنیہ مسلمہ اہل اسلام کا ذکر ہے۔ مہربانِ من محدثین کیا کوئی محقق مسلمان حنفی یا شافعی مقلد یا غیر مقلد تصحیح روایات حدیثیہ کا معیار قرآن کریم کو نہیں ٹھیراتا اور یہ نہیں کہتا کہ جب کسی حدیث کی صحت پرکھنی ہو تو اس کو قرآن کریم کی موافقت یا مخالفت سے صحیح یا غیر صحیح قرار دیں بلکہ معیار تصحیح وہ قوانین روایت ٹھہراتے ہیں کہ از انجملہ کسی قدر بیان ہوچکے ہیں۔ اس کی وجہ معاذ اللہ ثم عیاذاً باللہ یہ نہیں کہ قرآن مجید مسلمانوں کا حکم و مہیمن نہیں یا وہ امام حبل المتین نہیں۔ کوئی مسلمان جو قرآن پر اعتقاد رکھتا ہے یہ نہیں سمجھتا اور اگر کوئی ایسا سمجھے تو وہ سخت کافر ہے ۔ابوجہل کا بڑا بھائی نہ چھوٹا کیونکہ ابوجہل نے تو قرآن مجید کو تسلیم ہی نہیں کیا تھا یہ کافر قرآن پر ایمان لا کر اس کو اپنا نہیں بناتا اور حکم نہیں سمجھتا۔ ایسا شخص درحقیقت قرآن پر ایمان نہیں رکھتا اگر بظاہر مدعی ایمان ہو۔* آپ نے ناحق و بلاضرورت ان آیات قرآنیہ کو ہمارے سوال کے جواب میں پیش کیا جن میں قرآن مجید کے یہ محامد علیہ وارد ہیں اور ان کے بے ضرورت نقل و بیان سے اپنی اور ہماری اوقات کا خون کیا بلکہ توافق قرآن کو معیار صحت نہ ٹھہرائے اور اس باب میں اصول روایت کی طرف رجوع کرنے کی دو وجہ ہیں ایک وجہ یہ ہے کہ جو احادیث ان اصول روایت سے صحیح ہوچکی ہوں وہ خودبخود قرآن مجید کے موافق ہوتی ہیں اور ہرگز ہرگز وہ قرآن کے مخالف نہیں ہوتیں۔ قرآن امام ہے اور وہ احادیث خادم قرآن اور اس کی وجوہات کے مفسر و مبین اور ان وجوہات معانی قرآن کے جو کم فہم و قاصر الفکر لوگوں کے خیال میں متعارض معلوم ہوتی ہیں فیصلہ کرنے والی ہیں جس حالت میں ایک حدیث صحیح دوسری حدیث صحیح کے مخالف نہیں ہوتی اور ان کی باہم تطبیق ممکن ہے۔ چنانچہ امام الائمہ ابن خزیمہ سے منقول ہے۔ لااعرف انہ روی عن النبی صلعم حدیثان باسنادین صحیحین متضادین فمن کان عندہ فلیاتینی بہ لأولف بینھما تو پھر کسی حدیث صحیح کا مخالف قرآن ہونا کیونکر ممکن ہے۔ جو شخص کسی حدیث صحیح کو قرآن کے مخالف سمجھتا ہے وہ نافہم ہے اور اپنی نافہمی سے حدیث کو مخالف قرآن قرار دیتا ہے۔ محققین اسلام و محدثین و فقہا ایسے نہیں ہیں کہ صحیح حدیث کو مخالف قرآن سمجھیں اس لئے ان کو تصحیح حدیث کیلئے اس امر کی ضرورت نہیں ہے کہ موافقت یا مخالفت قرآن سے اس کا امتحان کریں یہی وجہ ہے حاشیہ* مولوی صاحب کے اس ایمان بالقرآن پر ٹھیک وہی پنجابی مثل صادق آتی ہے’’ پینچاں دا آکھیا سرمتھے تے پر پرنالہ اساں اوتھے ای رکھناں اے‘‘۔ اس زبانی ایمان سے کیا فائدہ جب کہ عملدرآمد اس کے برخلاف ہے۔ سبحان اللہ !بے شک قریب قیامت کا زمانہ ہے اور ضرور تھا