اسؔ مضمون کے اقوال بکثرت موجود ہیں جن کی نقل سے تطویل ہوتی ہے اس کے مقابلہ میںآپ کا یہ کہنا کہ پندرہ کروڑ حنفی صحیح بخاری کو نہیں مانتے۔ یہ محض ایک عامیانہ بات ہے، عامی لوگ جن کی تعداد مردم شماری کے کاغذات سے آپ نے بتائی ہے بخاری کو نہ مانتے ہوں تو اس کا اعتبار نہیں ہے عالم حنفی تو صحیح بخاری کی صحت سے انکار نہیں کرتے۔ آپ اس دعوے میں سچے ہیں تو کم سے کم ایک عالم کا متقدمین یا متاخرین سے نام بتادیں جس نے صحیح بخاری یا صحیح مسلم کی احادیث کو غیر صحیح یا موضوع کہا ہو۔ اور آپ کا یہ کہنا کہ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے احادیث صحیح بخاری کو ان پر اطلاع پاکر چھوڑ دیا۔ یہ بھی ایک عامیانہ بات ہے۔ آپ یہ نہیں جانتے کہ امام اعظم صاحب کب ہوئے اور صحیح بخاری کب لکھی گئی۔ مہربانِ من امام اعظم صاحب ڈیڑھ سو سنہ ہجرت میں انتقال کرکے داخل فردوس ہوئے اور صحیح بخاری دو سو سنہ کے بعد تالیف ہوئی۔۲؂ صحیح بخاری امام صاحب کے وقت میں تالیف ہوتی تو امام اعظم صاحب اس کو آنکھ پر رکھ لیتے۔ امام شعرانی میزان کبریٰ کے صفحہ۷۲۷ وغیرہ میں فرماتے ہیں۔ اعتقادناواعتقاد کل منصف فی الامام ابی حنیفہ رضی اللہ عنہ بقرینۃ ما مرزا صاحب غیر ضروری طویل بیانات اور نقل آیات سے مضمون کو بڑھاتے ہیں حالانکہ خود بے جا اور بے محل صحیحین خصوصًا صحیح بخاری کی مدح پر خامہ فرسائی کی ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ اپنے عوام ہم خیالوں کو دھوکا دینے کی راہ نکالیں اور انہیں اشتعال دلائیں کہ مرزا صاحب صحیح بخاری کو نہیں مانتے۔ سنئے مولوی صاحب! آپ نے خود صحیحین کی صحیح قرار دادہ حدیث پر بلحاظ صحت ظن غالب کا لفظ اطلاق کیا ہے اور بس۔ حضرت مرزا صاحب بھی اسی کے قائل ہیں چنانچہ مضمون۶؂ میں جو آخری اور قطعی مضمون ہے فرماتے ہیں۔ ’’ اور ہمارا مذہب تو یہی ہے کہ ہم ظن غالب کے طور پر بخاری اور مسلم کو صحیح سمجھتے ہیں۔‘‘ اب فرمائیے نزاع کس بات کی ہے؟ فیصلہ شد۔ مولوی صاحب شدت بغض کی وجہ سے وھو علیھم عمیً کا مصداق ہورہے ہیں! افسوس آنکھیں کھلی ہیں پر دیکھتے نہیں۔ کہاں مرزا صاحب نے بخاری کو امام صاحب کا معاصر یا اُن سے مقدم بیان کیا ہے۔ جس سے مستنبط ہوسکتا ہے کہ ان کی جامع امام صاحب کے وقت موجود تھی! ہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ حدیثیں جو مجموعی طور پر جامع بخاری میں مدوّن ہیں متفرق طور پر امام صاحب کے عصر میں اور ان سے قبل بھی موجود تھیں اور یہ کہنا صحیح ہے۔ کوئی منصف مولوی صاحب سے پُوچھے (ہمیں امید ہے کہ پوچھنے والے ضرور پوچھیں گے کیونکہ مولوی صاحب کی ہمہ دانی کا پردہ تو اب اور اس میدان میں پھٹا ہے۔ آگے تو اس گلستان والے بدرقہ کی طرح گھر کی چاردیواری میں پہلوان بنے بیٹھے تھے) کہ اتنی دراز نفسی آپ کی کس مصرف کی ہے؟ جب اصل بنا ہی خام ہے تو اس پر جو متفرع ہوا سب ہی نکما اور فضول ٹھہرا۔ یہ نکتہ چینی مرزا صاحب کے کس بیان کے متعلق ہے؟ فافہم۔ ایڈیٹر۔