کی نبوت کا حجاب ہو جاوے۔ حضرت یونس ؑ نے عذاب کے نازل ہونے کی قوم مخالف کو بہ تعین و قطع خبر دی۔ پھر اللہ تعالےٰ نے اس عذاب کو ٹال دیا تاکہ مخالفین کی نظروں میں ایک حجاب ہو جاوے۔ خلفائے راشدین کی خلافت راشدہ میں طرح طرح کے حجاب مخالفین کے واسطے کھڑے کر دیئے حالانکہ یہ خلافت باقی نبوت اور تتمہ رسالت تھی۔ اور بڑے زور شور سے موعود کی گئی تھی۔ تاکہ روافض اور خوارج کی نظروں میں وہ حجاب خفی حجاب جلی ہو جاویں اے میرے پیارے دوستو کیا اچھا کہا ہے کسی شاعر نے
در کارخانۂ عشق از کفر ناگزیر است
آتش کر ابسوزد گر بولہب نباشد
مولانا شاہ ولی اللہ حکیم اُمت فرماتے ہیں کہ یہ خفاء اور حجاب اس واسطے ڈالے جاتے ہیںؔ کہ امتحان مخلصان و منافقان بمیان آید۔ الحاصل جو طعن آپ حضرت مرزا صاحب پر کرتے ہیں۔ اس میں مولانا اسمٰعیل صاحب علیہ الرحمۃ بھی شریک ہیں۔ انا احمدبلا میم کوحدیث قرار دینا فی الحقیقت بڑا افترا اور کذب صریح ہے وہ کسی طرح پر درست نہیں سُبْحَانَکَ ھٰذَا بُھْتَانٌ عَظِیْمٌ۔ اللہ تعالیٰ سارے جھوٹوں کا منہ کالا کرے۔ اور پھر یہ عرض ہے کہ جملہ انا احمد بلا میم میں کوئی حرف تشبیہ وغیرہ کا مذکور نہیں جس سے معنے مجازی مفہوم ہوں صرف معنے حقیقی متبادر ہوتے ہیں اور وہ بالاتفاق باطل ہیں بخلاف کلام مرزا صاحب کے کہ اس میں جا بجا الفاظ مجاز اور استعارات کی تصریح ہے جس سے سوا اتحاد مجازی کے اتحاد حقیقی مفہوم ہی نہیں ہوتا حتیّٰ کہ شعر میں بھی لفظ آنچنان کا موجود ہے۔ آنچنان از خود جدا شد کزمیان افتاد میم
لفظ چنان کا محض تمثیل کے واسطے آتا ہے معنے حقیقی یہاں پر مراد ہو ہی نہیں سکتے لا تطرونی۔ کے معنے پر ہمارا ایمان ہے اور جو اطراء مذہب نصارےٰ کا ہے وہ بالکل شرک اور کفر ہے اس کی نسبت مرزا صاحب فرما چکے ہیں کہ ان کی طبیعتیں بسبب اس شرک کے ناپاک ہو گئی ہیں